مشرقِ وسطیٰ میں نئی کشیدگی اور عالمی معیشت
تحریر: ملائکہ صدف بھٹی
تاریخ گواہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی زمین جب بھی تپی ہے، اس کی تپش نے پوری دنیا کے ایوانوں کو لرزا دیا ہے۔ آج ایک بار پھر یہ خطہ ایک ایسے دہانے پر کھڑا ہے جہاں سے واپسی کا راستہ کٹھن نظر آتا ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر کی وفات اور اس کے بعد پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال نے نہ صرف خطے کے سیاسی نقشے کو غیر مستحکم کر دیا ہے بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ پیدا کر دیا ہے۔ یہ محض دو ملکوں کی جنگ نہیں ہے بلکہ یہ بلاکس کی سیاست کا وہ شاخسانہ ہے جو اب ایک بڑے تصادم کی صورت اختیار کر رہا ہے۔ آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کی تیل کی سپلائی کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے، اس وقت شدید خطرے کی زد میں ہے۔ اگر یہ تجارتی راستہ کسی بھی صورت بند ہوتا ہے یا یہاں جنگی کارروائیاں تیز ہوتی ہیں، تو اس کا مطلب عالمی توانائی کے نظام کا مفلوج ہونا ہے۔
عالمی معیشت، جو ابھی ماضی کے بحرانوں اور یوکرین جنگ کے ملبے سے پوری طرح نکل نہیں پائی تھی، ایک بار پھر گہرے سائے تلے ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کا پہلا نشانہ ہمیشہ خام تیل بنتا ہے۔ ماہرینِ معاشیات کے مطابق اگر یہ کشیدگی برقرار رہی تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تمام سابقہ ریکارڈ توڑ سکتی ہیں۔ اس کا براہِ راست اثر ٹرانسپورٹیشن اور مینوفیکچرنگ کی لاگت پر پڑے گا۔ تیل مہنگا ہونے کا مطلب ہے کہ دنیا بھر میں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان سے باتیں کریں گی۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے، جو پہلے ہی مالیاتی اداروں کے پروگراموں اور قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہیں، یہ صورتحال کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں۔
اس بحران کا ایک اور تکلیف دہ پہلو سپلائی چین کا تعطل ہے۔ بحیرہ احمر اور خلیج فارس میں بحری جہازوں کی نقل و حرکت محدود ہونے سے عالمی تجارت سست روی کا شکار ہو رہی ہے۔ الیکٹرانکس سے لے کر خوراک تک، ہر چیز کی ترسیل میں تاخیر ہو رہی ہے جو عالمی جی ڈی پی کی ترقی کو روک سکتی ہے۔ اس دوران چین کا ردعمل بھی نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ بیجنگ نے جہاں ایک طرف امن کی اپیل کی ہے، وہیں دوسری طرف وہ مشرقِ وسطیٰ میں اپنے معاشی مفادات کے تحفظ کے لیے متحرک نظر آتا ہے۔ چین کے لیے یہ خطہ توانائی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے، اسی لیے وہ ثالثی کے ذریعے حالات کو کنٹرول کرنا چاہتا ہے۔
پاکستان کے لیے یہ صورتحال دوہری مشکل پیدا کر رہی ہے۔ ایک طرف خلیجی ممالک میں مقیم لاکھوں پاکستانیوں کا روزگار اور ترسیلاتِ زر خطرے میں پڑ سکتے ہیں، تو دوسری طرف پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ممکنہ اضافہ ملکی افراطِ زر کو بے قابو کر سکتا ہے۔ حکومتِ پاکستان کو اس وقت انتہائی متوازن خارجہ پالیسی اور ہنگامی معاشی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے تاکہ آنے والے ممکنہ جھٹکوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔
مشرقِ وسطیٰ کا حالیہ بحران محض ایک جغرافیائی مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ ایک عالمی معاشی بقا کا مسئلہ بن چکا ہے۔ دنیا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ گولی ایک ملک میں چلتی ہے لیکن اس کی گونج دور دراز علاقوں میں بسنے والے غریب آدمی کی جیب تک سنائی دیتی ہے۔ اگر عالمی قوتوں نے فوری طور پر سفارت کاری کا راستہ اختیار نہ کیا تو عالمی معیشت ایک ایسے بھنور میں پھنس جائے گی جہاں سے نکلنا دہائیوں تک ممکن نہیں ہوگا۔ امن اب صرف ایک اخلاقی ضرورت نہیں بلکہ عالمی معیشت کی بقا کا واحد راستہ ہے۔
_2026_03_25_16_56_46_20883985.jpg)


Leave A Comment