*تحریر : نعمان حفیظ*
عالمی سیاست کے بدلتے ہوئے منظرنامے میں ایک بار پھر پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد عالمی توجہ کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ امریکہ اور ایران جیسے دو اہم اور بااثر ممالک کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے لیے اسلام آباد کا انتخاب کسی معمولی پیش رفت کا نتیجہ نہیں بلکہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی اہمیت، اعتماد اور غیر جانبدار کردار کا واضح اظہار ہے۔ بین الاقوامی برادری اب پاکستان کو محض ایک علاقائی ریاست نہیں بلکہ ایک ذمہ دار، سنجیدہ اور مؤثر ثالث کے طور پر دیکھ رہی ہے، جو پیچیدہ تنازعات کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
پبلش کالم روزنامہ ایشیا اردو

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان کہ امریکہ آئندہ مذاکرات کے لیے پاکستان کو ترجیح دے رہا ہے، عالمی سفارتی حلقوں میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ “ہم پاکستان جانے پر زیادہ مائل ہیں” اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ واشنگٹن کو اسلام آباد کی ثالثی پر اعتماد حاصل ہو چکا ہے۔ مزید برآں، انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت اور حکمتِ عملی ہی وہ عنصر ہے جس نے پاکستان کو اس اہم مقام تک پہنچایا ہے۔ یہ بیان نہ صرف پاکستان کی عسکری قیادت کے لیے اعزاز ہے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے مثبت تشخص کو بھی مضبوط کرتا ہے۔
ایران کی جانب سے بھی پاکستان کو مذاکرات کے لیے ترجیح دینا اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ اسلام آباد دونوں فریقین کے لیے ایک قابلِ اعتماد پلیٹ فارم بن چکا ہے۔ ایرانی حکام کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ پاکستان کی غیر جانبداری اور سنجیدہ سفارتی کردار پر مکمل اعتماد رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اگر مذاکرات کا دوسرا دور ہوتا ہے تو ایران پاکستان کو اولین ترجیح دینے پر آمادہ ہے۔ یہ پیش رفت پاکستان کے لیے ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے کیونکہ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان نہ صرف مغربی دنیا بلکہ مشرق وسطیٰ میں بھی ایک متوازن کردار ادا کر رہا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں سمیت مختلف عالمی ذرائع نے بھی اس امکان کی تصدیق کی ہے کہ امریکہ اور ایران کے وفود جلد ہی اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے جمع ہو سکتے ہیں۔ یہ خبریں اس بات کو مزید تقویت دیتی ہیں کہ پاکستان عالمی سفارتکاری کے مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والے یہ ممکنہ مذاکرات نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے اہمیت کے حامل ہوں گے، کیونکہ امریکہ اور ایران کے تعلقات کا اثر عالمی معیشت، توانائی کے بحران اور سلامتی کی صورتحال پر براہ راست پڑتا ہے۔
اگر اس پیش رفت کا گہرائی سے تجزیہ کیا جائے تو یہ پاکستان کے لیے ایک سنہری موقع ہے۔ سب سے پہلے، یہ پاکستان کو عالمی سطح پر ایک امن پسند اور ذمہ دار ریاست کے طور پر اپنی شناخت مزید مضبوط کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ دوم، اس کے ذریعے پاکستان اپنی سفارتی ساکھ کو بہتر بنا سکتا ہے اور عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات کو نئی جہت دے سکتا ہے۔ سوم، اس عمل کے نتیجے میں پاکستان کو اقتصادی فوائد بھی حاصل ہو سکتے ہیں، کیونکہ عالمی توجہ کسی بھی ملک میں سرمایہ کاری، ترقیاتی منصوبوں اور بین الاقوامی تعاون کے دروازے کھولتی ہے۔
تاہم، اس موقع کے ساتھ کئی چیلنجز بھی وابستہ ہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان تعلقات انتہائی پیچیدہ اور حساس نوعیت کے ہیں۔ ان دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی کمی اور ماضی کے تنازعات کسی بھی وقت مذاکرات کو متاثر کر سکتے ہیں۔ ایسے میں پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ انتہائی احتیاط، دانشمندی اور توازن کا مظاہرہ کرے۔ پاکستان کو اپنی سفارتی حکمتِ عملی کو نہایت پیشہ ورانہ انداز میں آگے بڑھانا ہوگا تاکہ وہ دونوں فریقین کا اعتماد برقرار رکھ سکے۔
پاکستان کو داخلی استحکام پر بھی توجہ دینا ہوگی۔ سیاسی ہم آہنگی، مضبوط پالیسی سازی اور ادارہ جاتی ہم آہنگی ہی وہ عوامل ہیں جو کسی بھی ملک کو عالمی سطح پر مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بناتے ہیں۔ اگر پاکستان داخلی سطح پر مضبوط ہوگا تو وہ بین الاقوامی سطح پر بھی زیادہ مؤثر انداز میں اپنا کردار ادا کر سکے گا۔
یہ بھی قابلِ غور ہے کہ ماضی میں پاکستان نے کئی اہم عالمی اور علاقائی معاملات میں مثبت کردار ادا کیا ہے، تاہم اس بار صورتحال مختلف ہے۔ اس بار نہ صرف پاکستان ثالثی کر رہا ہے بلکہ عالمی طاقتیں خود اس کی طرف رجوع کر رہی ہیں۔ یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ایک بڑی کامیابی ہے اور اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا اب پاکستان کو ایک سنجیدہ اور قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر تسلیم کر رہی ہے۔
اسلام آباد کا ایک بار پھر عالمی سفارتکاری کے مرکز کے طور پر ابھرنا ایک تاریخی لمحہ ہے۔ یہ پاکستان کے لیے ایک امتحان بھی ہے اور ایک موقع بھی۔ اگر پاکستان نے اس موقع کو دانشمندی، بصیرت اور مؤثر حکمتِ عملی کے ساتھ استعمال کیا تو نہ صرف وہ اپنی عالمی حیثیت کو مضبوط بنا سکے گا بلکہ خطے میں امن و استحکام کے قیام میں بھی کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ دنیا کی نظریں ایک بار پھر اسلام آباد پر ہیں، اور اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان اپنی صلاحیتوں، قیادت اور سفارتی مہارت کا بھرپور مظاہرہ کرے۔

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار