- 16 Mar
- 144
سپر پاور کارٹون /ڈرامہ سیریل اور بچے
تحریر ::نسیم اختر
بچپن کا دور زندگی کا حسین ترین دور ہوتا ہے۔ بے فکری اور معصومیت ہی اس دو ر کا حٰسن ہوتی ہیں۔اگرچہ آج کل کا بچپن بھی ہمارے دور کے بچپن جیسا نہیں ہے۔ دور حاضر کی ماں پرانے دور کی ماں سے زیادہ با شعور ہے۔لیکن بچے کے ذہن پر بہت سے بیرونی عناصر بھی اثرانداز ہوتے ہیں۔جو اس کی شخصیت کو بناتے یا بگاڑتے ہیں۔
آج کل تربیت کے حوالے سے والدین زیادہ با علم ہیں اس لۓ اپنے بچے کی شخصیت کو سنوارنے میں اپنی پوری سعی کر رہے ہیں۔لیکن ایک ایسی منفی سرگرمی جو ہمارے بچے لا شعوری طور پر ہمارے اپنے زہن کا حصہ بنا رہے ہیں۔ وہ ہیں
سپر پاور کارٹون اور ڈرامہ سیریز ۔
کارٹون کریکٹر سپر پاور یعنی جادوئی طاقتیں اور خصوصیات کے حامل دکھاۓ جاتے ہیں اور پھر وہ بچےکرداروں کے سحر کو آئیڈ لائز کرنے لگتے ہیں۔اور اس طرح اپنی حقیقی زندگی میں بھی ان جیسا بننے کی خواہش کرنے لگتے ہیں۔حالانکہ حقیقی زندگی میں ان جادوئی طاقتوں کا کوئی لینادینا نہیں ہوتا۔یہ آئیڈلائزیشن ان کو تخیلاتی زندگی میں لے جاتی ہے جس میں وہ ہیری پورٹر کی طرح جھاڑو پراڑ سکتے ہیں۔بال ویر کی طرح جادو سے غائب ہو سکتے ہیں۔شیوا کی طرح لڑ سکتے ہیں۔رودھرا کی طرح منتر پڑھ کر جیت سکتے ہیں۔موٹو پتلو کی طرح ان کے دماغ کی بتی بھی بغیر سموسے کے نہیں جلتی۔ سپائیڈر مین کی طرح اونچی عمارتوں پر چڑھ سکتے ہیں۔سپر مین اور کرش جیسا بننا بھی انھیں خیالائی دنیا میں لے جاتا ہے جو ان کی حقیقی زندگی میں کامیابی کے امکان پر منفی اثر ڈالتی ہے۔
بچوں کی تفریح کے مقصد کے لۓ بنایا جانے والا ہر دوسرا مواد ایسا ہی ہے۔ اور اب ایسے مواد تک بچوں کی رسائی بھی بڑی آسان ہے۔بلکہ والدین خود یہ سہولت مہیا بھی کرتے ہیں کہ بچہ فارغ وقت میں کچھ ریلکس ہو سکے کیونکہ آج کل بچوں پر پڑھائی کا بوجھ بھی زیادہ ہے۔مگر یہ کارٹون سیریز بچوں کو حقیقت کی حدبندی سے دور لے جا رہی ہے۔اور اس کے اندر مار دھاڑ اور ایگریشن پیدا کرنے کا باعث بن رہی ہے۔
اس معاملے میں والدین کو بھی احتیاط برتنی چاہیے۔اور میڈیا میں بھی کوئی مثبت پیشرفت ہونی چاہیے کہ جو بچوں کو حقیقت پر مبنی سیریز دکھاۓ جن میں محنت اور دوسری اقدار کو نمایاں کرتے ہوۓ بچوں کی تفریح اور تربیت دونوں کو ملحوظ خاطر رکھا جاۓ۔کیونکہ بے شک منتر پڑھ کر جیتنا بڑا پر کشش لگتاہے مگر حقیقی زندگی میں انسان کو اپنی محدود استعداد کے مطابق محنت کے بل بوتے پر ہی کامیابی ملتی ہے



Leave A Comment