تحریر: خالد محمود


ملتان کے نواحی علاقے موضع لوٹھٹر میں واقع ایک سرکاری ہائی اسکول کی عمارت کے صحن میں بارش کا پانی
جمع ہے۔ کلاس رومز کی چھتوں میں دراڑیں پڑ چکی ہیں، واش روم ناکارہ ہیں اور پینے کے صاف پانی کی سہولت
بھی محدود ہے۔ اس اسکول کے ایک طالب علم کے والد محمد رمضان کہتے ہیں ہرسال سنتے ہیں کہ حکومت نے
اسکول کے لیے فنڈ جاری کیے ہیں لیکن بچوں کو سہولتیں آج بھی میسر نہیں۔
یہ صرف ایک اسکول کی کہانی نہیں بلکہ ضلع ملتان کے متعدد سرکاری ہائی اور ہائر سیکنڈری اسکولوں کی صورت
حال کی عکاسی کرتی ہے جہاں نان سیلری بجٹ (NSB) فنڈز کے اجرا اور ان کے عملی اثرات کے درمیان واضح
فرق دکھائی دیتا ہے۔

News Image

نان سیلری بجٹ (NSB) فنڈز پنجاب حکومت کی جانب سے سرکاری اسکولوں کو تنخواہوں کے علاوہ دیگر
ضروری اخراجات کے لیے فراہم کیے جاتے ہیں۔ ان فنڈز کا مقصد اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی، معمولی
مرمت، صفائی ستھرائی، بجلی و پانی کے بل، تدریسی سامان اور دیگر انتظامی ضروریات کو پورا کرنا ہے۔ لیکن
لوٹھٹر کے سرکاری ہائی سکول کے ہیڈماسٹر کہتے ہیں کہ نان سیلری بجٹ رقم ناکافی ہونے کی وجہ سے سکول
کے تعمراتی کام نا مکمل رہے ۔۔۔ اس رقم سے صرف یوٹیلیٹی بلز ادا کے گے ،اور کلیر گیور (ای سی ای) کی مہینہ
کی تنخواہ ادا کی گی 
پنجاب ایجوکیشن سیکٹر ریفارم پروگرام (PESRP) کے تحت یہ فنڈز مختلف سطحوں کے اسکولوں کو طلبہ کی
تعداد اور دیگر طے شدہ معیار کے مطابق فراہم کیے جاتے ہیں۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیایہ فنڈ واقعی ان مقاصد کے
لیے استعمال ہو رہے ہیں جن کے لیے جاری کیے جاتے ہیں؟
محکمہ تعلیم کے ریکارڈ کے مطابق ضلع ملتان کے سرکاری اسکولوں کو گزشتہ برسوں میں پنجاب حکومت نے
مالی سال 2024–25 میں تمام اضلاع کے پرائمری، ایلیمنٹری، ہائی اور ہائر سیکنڈری سکولوں کے NSB کے لیے
مجموعی طور پر 4.517 ارب روپے کی رقم اضلاع کے اکاؤنٹس میں جاری کرنے کی منظوری دی تھی، جبکہ کل
مختص رقم 18.0686 ارب روپے تھی۔ اگر صرف ملتان ضلع کی بات کی جاے تو 2024-2025 جون تک 10کروڑ
80 لاکھ 97 ہزار روپے ضلع کے سرکاری سکولوں کے اخراجات کے لیے این ایس بی فنڈز جاری کیے گئے۔ اسکول
سربراہان کو یہ فنڈز سکول کونسلوں کے ذریعے استعمال کرنے کی اجازت دی جاتی ہے جبکہ اخراجات کا ریکارڈ
بھی مرتب کیا جاتا ہے۔
اسسٹنٹ ڈائریکٹر فنانس محکمہ تعلیم ملتان  کے مطابق تمام فنڈز مقررہ قواعد و ضوابط کے تحت
جاری کیے جاتے ہیں اور ان کے استعمال کا ریکارڈ محفوظ رکھا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسکول کونسلیں اخراجات
کی منظوری دیتی ہیں اور متعلقہ دستاویزات جمع کروائی جاتی ہیں۔

تحقیق کے دوران ملتان کے مختلف سرکاری ہائی اسکولوں کے دوروں میں معلوم ہوا کہ متعدد اداروں میں بنیادی
سہولیات کا فقدان موجود ہے۔
کئی اسکولوں میں پینے کے صاف پانی کی مناسب سہولت موجود نہیں۔ واش رومز کی حالت ناقص ہے۔ چار دیواری
اور گیٹس کو مرمت کی ضرورت ہے۔ فرنیچر کی کمی نمایاں ہے۔ کلاس رومز میں پنکھے اور برقی آلات ناکارہ ہیں۔ان
حالات نے یہ سوال پیدا کیا کہ اگر فنڈز باقاعدگی سے جاری ہوتے ہیں تو سہولیات کی کمی کیوں برقرار ہے؟سکول
کونسل ممبران کیا کہتے ہیں کہ بعض اوقات فنڈز موصول تو ہو جاتے ہیں مگر ان کی مقدار ضروریات کے مقابلے میں ناکافی ہوتی
ہے۔ ان کے مطابق اسکولوں کی ضروریات مسلسل بڑھ رہی ہیں جبکہ دستیاب وسائل محدود ہیں۔
ایک اور سکول کونسل  کے مطابق اخراجات کی نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی
ضرورت ہے تاکہ والدین اور کمیونٹی کے افراد بھی فنڈز کے استعمال سے مکمل طور پر آگاہ رہ سکیں۔ سوشل ورکر کا کہنا ہے کہ این ایس بی فنڈز کے ذریعے ہونے والی بعض خریداریوں میں شفافیت کے حوالے سے
سوالات سامنے آتے ہیں۔اکثر والدین اور مقامی کمیونٹی کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ اسکول نے کون سا سامان خریدا،
کتنی قیمت پر خریدا اور اس کی ضرورت کیا تھی۔اسی طرح گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول  کے
نمائندے  کے مطابق خریداری کے لیے قواعد موجود ہیں لیکن ان پر عملدرآمد کا معیار ہر جگہ یکساں
نہیں۔تعلیمی ماہرین کے مطابق این ایس بی فنڈز کے استعمال کی نگرانی بنیادی طور پر سکول کونسلوں، محکمہ تعلیم
اور آڈٹ کے نظام کے ذریعے کی جاتی ہے۔تاہم دستیاب معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ فنڈز کے استعمال سے متعلق
تفصیلی سکول وار آڈٹ رپورٹس عام شہریوں کی دسترس میں نہیں ہوتیں۔ یہی وجہ ہے کہ شفافیت اور احتساب کے
حوالے سے سوالات جنم لیتے ہیں۔ڈان اخبار کی ایک2017 میں شاءع ہونے والی رپورٹ میں 551.811ملین روپے
استعمال نا ہونے کے باعث واپس لیپ ہو گے تھے ضلع لیہ میں کروڑوں روپے کے این ایس بی فنڈز کے لیپس ہونے
اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی سفارش کا ذکر کیا گیا تھا۔

روزنامہ ایشیا اردو میں پبلش ارٹیکل

اسی طرح دیگر رپورٹس میں فنڈز کی بروقت فراہمی
نہ ہونے کے باعث ترقیاتی سرگرمیوں کے متاثر ہونے کی نشاندہی کی گئی لنک
https://www.dawn.com/news/1343258?utm_source=chatgpt.com۔ طلبہ اور والدین پر
اثرات فنڈز کے مؤثر استعمال یا عدم استعمال کا براہ راست اثر طلبہ پر پڑتا ہے۔ ناقص عمارتیں، خراب واش رومز،
غیر فعال پنکھے اور پانی کی عدم دستیابی تعلیمی ماحول کو متاثر کرتے ہیں۔محمد آصف، جن کے بچے سرکاری
اسکول میں زیر تعلیم ہیں، کہتے ہیں;حکومت تعلیم پر خرچ کر رہی ہے لیکن اس کے نتائج اسکولوں میں واضح
نظر آنے چاہئیں۔ اگر فنڈز خرچ ہو رہے ہیں تو والدین کو بھی معلوم ہونا چاہیے کہ کہاں خرچ ہوئے۔ ماہرین کیا تجویز
کرتے ہیں؟تعلیمی امور کے ماہرین کے مطابق: تمام اسکولوں کے این ایس بی فنڈز کی تفصیلات عوامی ویب پورٹل
پر شائع کی جائیں۔ سکول کونسلوں میں والدین کی مؤثر نمائندگی یقینی بنائی جائے۔ سالانہ آڈٹ رپورٹس کو عوامی
دسترس میں لایا جائے۔ فنڈز کے استعمال کی تصاویر اور ثبوت آن لائن اپ لوڈ کیے جائیں۔ کمیونٹی مانیٹرنگ کا نظام
متعارف کرایا جائے۔ ضلع ملتان کے سرکاری ہائی اسکولوں میں این ایس بی فنڈز کے اجرا اور زمینی حقائق کے
درمیان موجود فرق شفافیت اور نگرانی کے نظام پر اہم سوالات اٹھاتا ہے۔ اگرچہ محکمہ تعلیم کے مطابق فنڈز قواعد
کے مطابق خرچ کیے جا رہے ہیں، تاہم متعدد اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی کمی اس بات کی متقاضی ہے کہ فنڈز
کے استعمال کا آزادانہ جائزہ لیا جائے۔
تعلیم کے شعبے میں مختص وسائل کا اصل مقصد طلبہ کو بہتر تعلیمی ماحول فراہم کرنا ہے۔ جب تک فنڈز کے اجرا
سے لے کر ان کے استعمال تک مکمل شفافیت اور مؤثر نگرانی یقینی نہیں بنائی جاتی، تب تک سرکاری ریکارڈ اور
زمینی حقیقت کے درمیانیہ فاصلہ برقرار رہنے کا خدشہ موجود رہے گا۔

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار