ملتان: تھانہ نیو ملتان پولیس نے شہری کی درخواست پر خاتون سمیت پانچ افراد کے خلاف مبینہ زیادتی، ڈکیتی اور دھوکا دہی کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کرلیا۔
ایف آئی آر کے مطابق مدعی محمد اسماعیل نے دوسری شادی کے لیے فیس بک پر اپنا موبائل نمبر درج کیا تھا، جس پر زینب نامی خاتون نے اس سے رابطہ کیا اور شادی کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے ملاقات کے لیے چوک کمہاراں والا بلایا۔
مدعی کے مطابق 27 جون 2026 کو وہ اپنے ڈرائیور کے ہمراہ مقررہ مقام پر پہنچا، جہاں خاتون اسے مبینہ طور پر ایک خالی مکان میں لے گئی۔ درخواست گزار نے الزام عائد کیا کہ وہاں اس کے ساتھ زیادتی کی گئی، تاہم وہ وہاں سے باہر نکل آیا۔
ایف آئی آر میں مزید الزام عائد کیا گیا ہے کہ باہر نکلتے ہی چار افراد نے، جن میں ایک مبینہ پولیس اہلکار وردی میں جبکہ تین سادہ لباس میں تھے، اسے اور اس کے ڈرائیور کو روک لیا۔ مدعی کے مطابق مذکورہ افراد نے اس کا موبائل فون، شناختی کارڈ اور گاڑی کی چابی قبضے میں لے لی اور زنا کے مقدمے میں گرفتار کرنے کی دھمکی دی۔

News Imageدرخواست گزار کا کہنا ہے کہ معاملہ ختم کرنے کے لیے اس سے مبینہ طور پر 10 لاکھ روپے طلب کیے گئے۔ ایف آئی آر کے مطابق مدعی نے رقم دینے پر رضامندی ظاہر کی، جس کے بعد وہ ایک مبینہ پولیس اہلکار کے ہمراہ یو بی ایل سبزی منڈی برانچ ملتان گیا، جہاں سے 10 لاکھ روپے نقد رقم نکلوائی گئی۔
مدعی نے پولیس کو بتایا کہ بینک سے رقم نکلوانے کے بعد اسے واپس چوک کمہاراں والا لایا گیا، جہاں مبینہ طور پر رقم تقسیم کی گئی۔ بعدازاں اس کا موبائل فون، شناختی کارڈ اور گاڑی کی چابی واپس کردی گئی اور مبینہ طور پر معاملے کی شکایت کرنے کی صورت میں اس کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی دھمکی دی گئی۔
ایف آئی آر کے مطابق مدعی نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ اس سے سادہ کاغذ پر انگوٹھے لگوائے گئے اور ویڈیو بنائی گئی۔ درخواست گزار نے پولیس سے ملزمان کے خلاف کارروائی، گرفتاری اور رقم کی برآمدگی کی استدعا کی ہے۔
پولیس نے درخواست پر تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 376، 382 اور 420 کے تحت مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق واقعے کے شواہد، بینک کی سی سی ٹی وی فوٹیج اور نامزد افراد کے کردار کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ مقدمے میں عائد الزامات مدعی کا مؤقف ہیں، جن کی تفتیش جاری ہے اور الزامات کا درست تعین قانونی کارروائی اور شواہد کی روشنی میں ہوگا۔ دوسری جانب پولیس ترجمان سے ان کے وٹس ایپ پر میسج اور موبائل فون پر کال کرکے بھی موقف جاننے کی کوشش کی مگر ترجمان پولیس کا نمبر اٹینڈ نا ہوا اور وٹس ایپ سے جواب نا دیا گیا

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار