پاسپورٹ آفس گارڈن ٹاؤن میں بدنظمی، محسن نقوی کا اچانک دورہ، افسر کو ہٹانے کا حکم
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پاسپورٹ آفس گارڈن ٹاؤن کا اچانک دورہ کیا جہاں شہریوں کی لمبی قطاریں، کئی گھنٹوں کا انتظار اور متعدد کاؤنٹرز پر عملے کی عدم موجودگی دیکھ کر شدید برہمی کا اظہار کیا۔
دورے کے دوران شہریوں نے وفاقی وزیر داخلہ کو شکایات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ وہ صبح سے پاسپورٹ آفس میں موجود ہیں لیکن کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود ان کی باری نہیں آئی۔ بعض شہریوں نے پاسپورٹ آفس کے باہر مبینہ ایجنٹوں کی جانب سے جلد کام کرانے کے لیے رقم طلب کیے جانے کی شکایت بھی کی۔
ایک شہری نے محسن نقوی کو بتایا کہ اس نے مبینہ ایجنٹ کو 5 ہزار 500 روپے ادا کیے ہیں، جبکہ ایک بزرگ شہری نے شکایت کی کہ اسے پاسپورٹ آج ملنا تھا لیکن عملے نے بتایا کہ پاسپورٹ ابھی پرنٹ نہیں ہوا۔
پاسپورٹ آفس کی صورتحال پر وفاقی وزیر داخلہ نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انچارج پاسپورٹ آفس ڈپٹی ڈائریکٹر شہزاد اسلم کو بدنظمی اور فرائض میں غفلت پر عہدے سے ہٹانے کا حکم دے دیا۔
محسن نقوی نے پاسپورٹ آفس کے باہر مبینہ ایجنٹ مافیا کی موجودگی کا بھی سخت نوٹس لیا اور ڈپٹی ڈائریکٹر اینٹی کرپشن ایف آئی اے لاہور کو بھی عہدے سے ہٹانے کی ہدایت کی۔
وفاقی وزیر داخلہ نے موقع پر ہی متعلقہ حکام کو شہریوں کی شکایات فوری دور کرنے کے احکامات جاری کیے اور شہریوں سے ذاتی طور پر معذرت بھی کی۔
محسن نقوی نے کہا کہ پاسپورٹ آفس کی صورتحال انتہائی افسوسناک ہے، شہریوں کے ساتھ اس طرح کا سلوک ناقابل برداشت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاسپورٹ آفس میں شہریوں کو تیز رفتار خدمات کی فراہمی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور کسی بھی قسم کی کوتاہی یا غفلت پر بلاتفریق تادیبی کارروائی کی جائے گی۔
وفاقی وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ شہریوں کو سہولیات فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری بھی ہے اور فرض بھی۔



Leave A Comment