تحریر: تنویر بھٹی 

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی سیاست کے مرکز میں کھڑا ہے، جہاں طاقت کے توازن میں ایک خاموش مگر گہری تبدیلی رونما ہو رہی ہے۔ حالیہ تجزیات میں ، جو مشرق وسطیٰ سے وابستہ ہیں، نے اس صورتحال کو "اختتام کی ابتدا" قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق ہم ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں جہاں پرانی طاقتیں اپنی گرفت کھو رہی ہیں اور نئی حقیقتیں جنم لے رہی ہیں۔

مارندی کے مطابق اسرائیل  کو پہنچنے والا نقصان صرف جنگی نوعیت کا نہیں بلکہ اس کی ساکھ اور اعتماد کا بحران بھی شدت اختیار کر چکا ہے۔ عالمی سرمایہ کار، جو کسی بھی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں، اب اسرائیل کو غیر یقینی حالات کا شکار خطہ سمجھنے لگے ہیں۔ اگر یہ رجحان جاری رہا تو نہ صرف اسرائیلی معیشت بلکہ اس کی عالمی حیثیت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ طاقت صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ اعتماد اور استحکام سے بھی قائم رہتی ہے۔

دوسری جانب ایران  کو ایک مضبوط اور منظم ریاست کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جو دباؤ کے باوجود اپنے اہداف پر قائم ہے۔ مارندی کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے دفاعی نظام اب "تھکن" کا شکار نظر آتے ہیں۔ تل ابیب میں خطرے کے سائرن کا تاخیر سے بجنا اس بات کی علامت ہے کہ فوری ردعمل کی صلاحیت میں کمی آ رہی ہے، جو کسی بھی ریاست کے لیے تشویش ناک پہلو ہو سکتا ہے۔

امریکی سیاسی منظرنامے میں  کا کردار بھی اس تناظر میں امریکہ خاص اہمیت رکھتا ہے۔ ان کے حالیہ بیانات، جن میں "مشن مکمل ہونے" کی بات کی گئی، دراصل ایک ممکنہ پسپائی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ تاہم، تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اس صورتحال کو اپنے حق میں استعمال کرتے ہوئے امریکہ کو آسانی سے اس تنازع سے نکلنے نہیں دے گا، خاص طور پر ماضی کے تلخ تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے۔

ایران کی جانب سے امریکی مذاکرات کو مسترد کرنا اسی حکمتِ عملی کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔ دو مرتبہ رابطے کے باوجود انکار اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ایران اب مذاکرات میں برابری کی سطح چاہتا ہے، نہ کہ دباؤ کے تحت کوئی فیصلہ۔ یہ رویہ ایک خوداعتماد ریاست کی پہچان بھی سمجھا جا سکتا ہے۔

داخلی طور پر ایران میں قیادت کے تسلسل کا پہلو بھی نہایت اہم ہے، جہاں خامنائی کے بیٹے کا نام سامنے آ رہا ہے۔ انہیں ایک ایسے مذہبی اسکالر کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے جنہوں نے بیس سال تک تدریسی خدمات انجام دی ہیں اور سادہ طرزِ زندگی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ یہ پہلو ایران کے سیاسی نظام میں استحکام اور تسلسل کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو کسی بھی ملک کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔

معاشی میدان میں ایران کی "مزاحمتی معیشت" ایک اہم موضوع بن چکی ہے۔ سخت پابندیوں کے باوجود ایران نے اپنے داخلی وسائل اور علاقائی روابط کے ذریعے معیشت کو سہارا دیا ہے۔ اگرچہ چیلنجز بدستور موجود ہیں، لیکن یہ حکمتِ عملی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خودانحصاری کسی بھی ملک کو بیرونی دباؤ کے مقابلے میں مضبوط بنا سکتی ہے۔

عالمی سطح پر اس تمام صورتحال کو بعض حلقے "انسانیت کی فتح" کے طور پر بھی دیکھ رہے ہیں۔ اس بیانیے کے مطابق ایران کی کامیابی عالمی طاقتوں کے تسلط کے خلاف ایک علامتی پیش رفت ہو سکتی ہے۔ تاہم، اس نقطۂ نظر پر اختلاف بھی پایا جاتا ہے، کیونکہ ناقدین کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی انسانی بحرانوں کو مزید سنگین بنا سکتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست ہمیشہ پیچیدہ رہی ہے، جہاں ہر واقعہ کئی زاویوں سے دیکھا جا سکتا ہے۔ "اختتام کی ابتدا" کا تصور بھی اسی پیچیدگی کا عکاس ہے۔ یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ آیا واقعی اسرائیل زوال کی طرف بڑھ رہا ہے یا یہ محض ایک عارضی مرحلہ ہے، لیکن اتنا ضرور واضح ہے کہ حالات تیزی سے بدل رہے ہیں۔

آخر میں، یہ کہا جا سکتا ہے کہ دنیا ایک نئے دور کے دہانے پر کھڑی ہے۔ طاقت کا توازن تبدیل ہو رہا ہے، بیانیے بدل رہے ہیں، اور ریاستیں اپنی نئی حکمتِ عملی ترتیب دے رہی ہیں۔ آنے والا وقت ہی فیصلہ کرے گا کہ یہ تبدیلی کس حد تک پائیدار ثابت ہوتی ہے، لیکن فی الحال یہ منظرنامہ یقیناً "اختتام کی ابتدا" کا آئینہ دار نظر آتا ہے۔

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار