شہادت حضرت حسین اور ہماری ذمہ داری
تحریر: اریبہ گل ملتان
نواسہ رسول حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مقدس شہادت ہمارے لئے شمع ہدایت ہے جو ہمیں نامساعد اور کٹھن حالات میں بندگی، صبر وایثار،قربانی، کلمہء حق پر استقامت اور باطل قوتوں کے آگے ڈٹ جانے کا درس دیتی ہے۔محرم الحرام بین المسالک ہم آہنگی اور اسوہ ء حسینی پر عمل پیرا ہونے کا متقاضی ہے ۔ اسلام دین فطرت ہے جو بین المسالک ہم آہنگی،بھائی چارے ، امن و محبت اور مذہبی رواداری کے فروغ کا درس دیتا ہے۔معاشرے میں امن کے قیام اور مثبت اصلاح کیلئے ہمیں اپنے ذاتی و گروہی اختلافات بھلا کر قومی سلامتی اور ملکی تعمیر و ترقی کیلئے مل کر کام کرنا ہے ۔ پاکستان کی سرحدی صورتحال اور خطہ میں سٹرٹیجک اہمیت کے پیش نظر ازلی دشمن ملک بھارت اور اسکے حواری ممالک حالیہ محرم الحرام کے دوران ہماری صفوں میں انتشار پھیلانے اور ملکی مفادات کو نقصان پہچانے کی ناپاک کوشش کر سکتے ہیں لہٰذا سخت احتیاط اور فول پروف سکیورٹی اقدامات کے ساتھ ہی بین المسالک اتحاد و یگانگت،مذہبی ہم آہنگی،رواداری اور برداشت کے ذمہ دارانہ رویوں کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے ۔وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے محرم الحرام کے مقدس پروگراموں کو فول پروف سکیورٹی فراہم کرنے اور صوبائی سطح پر فرقہ ورانہ ہم آہنگی کیلئے اتحاد بین المسلمین کمیٹی کے کردار کو سراہتے ہوئے اس اہم موقع پر علماء کرام اور مشائخ عظام کو اخوت و بھائی چارے ، یکجہتی اور مذہبی رواداری کے رویوں کو فروغ دینے کیلئے مثبت کردار ادا کرنے اور سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد پھیلانے والوں پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایات کی روشنی میں علماء کرام کی مشاورت سے محرم الحرام کی مجالس اور عزاداری جلوسوں کو محفوظ بنانے کیلئے خصوصی ضابطہ اخلاق ترتیب دیا گیا ہے ۔خوش آئند امر ہے کہ تمام مکتبہ ہائے فکر کی طرف سے اس ضابطہ اخلاق کی بھرپور پاسداری کی جا رہی ہے ۔ اس محرم الحرام میں صوبے بھر کے تمام اضلاع میں مجموعی طور پر 9366جلوس اور 35983 مجالس منعقد ہورہی ہیں۔وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز کے احکامات اور آئی جی پنجاب کی ہدایات کی روشنی میں اس محرم الحرام کو محفوظ اور پر امن بنانے کے لئے مجالس اورجلوسوں کی سکیورٹی پر پونے دو لاکھ سے زائدپولیس افسران واہلکار فرائض انجام دے رہے ہیں۔صوبائی دارلحکومت لاہور ملک بھر میں امن و امان کی مجموعی صورتحال کے حوالے سے ہمیشہ مرکز نگاہ رہا ہے جس کے پیش نظر سربراہ لاہور پولیس کی براہ راست سپرویژن میں محرم الحرام کو پر امن بنانے کیلئے انتہائی سخت سکیورٹی انتظامات عمل میں لائے گئے ہیں۔جس میں اہم ترین گراس روٹ لیول تک شیعہ کمیونٹی لیڈرز،مجالس و عزاداری جلوسوں کے آرگنائزر، مختلف مکتبہ ہائے فکر سمیت تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ موثر کوارڈینشن کا قیام ہے ۔لاہور کی طرح ملتان میں بھی ایڈیشنل آئی جی جنوبی پنجاب کامران خان ، کمشنر ملتان ڈویژن مریم خان ، آرپی او ملتان ڈویژن چودھری محمد سہیل کی ہدایات پر فول پروف سیکیورٹی انتظامات کئے گئے ہیں اور ان کی نگرانی آرپی او ملتان ڈویژن چودھری محمد سہیل خود کررہے ہیں۔
آج کا دور سوشل میڈیا اور ففتھ جنریشن وار کا ہے لہٰذا جغرافیائی سرحدوں سے زیادہ اب ملک کی نظریاتی سرحدوں اور اقدار کا تحفظ ضروری ہو چکا ہے ۔محرم الحرام میں پرمذہبی منافرت پر مبنی اشتعال انگیز تقاریر،متنازعہ و گستاخانہ مواد اور لٹریچر اپ لوڈ اور وائرل کرنیکی صورت میں محکمہ پولیس،ایف آئی اے ، سی ٹی ڈی اور دیگر ادارے سخت کاروائی عمل میں لانے کا عندیہ دیا ہے ۔ آرپی او ملتان ڈویژن چودھری محمد سہیل کی ہدایت پر اس بار محرم الحرام میں پہلے سے زیادہ سخت سکیورٹی اقدامات عمل میں لائے گئے ہیں۔ پنجاب پولیس افسران اور جوانوں کے علاوہ ڈولفن سکواڈ،پولیس ریسپانس یونٹ، موبائل سکواڈ،اینٹی رائٹ فورس،ابابیل سکواڈ غرضیکہ پولیس کے تمام آپریشنل یونٹس، ہیومن ریسورس اور لاجسٹک وسائل کو محرم الحرام پر سکیورٹی یقینی بنانے کیلئے استعمال میں لایاجارہا ہے ۔ یوم عاشور کو ہر لحاظ سے پر امن بنانے کے لئے محکمہ پولیس،مجالس و عزاداری منتظمین، لائسنس ہولڈرز، آرگنائزرز، بانیان، شیعہ کمیونٹی سمیت مختلف مسالک کے علماء کرام، تاجروں اور علاقائی نمائندوں کے درمیان موثر اور مربوط کوارڈینشن یقینی بنائی گئی ہے ۔پولیس اور انتظامیہ کی طرف سے بھرپور کوششیں کی جا رہی ہیں کہ محرم الحرام میں امن و امان کے حوالے سے کوئی سنگین مسئلہ درپیش نہ ہو،تمام حل طلب امور باہمی سٹیک ہولڈرز کی باہمی مشاورت اور افہام و تفہیم سے طے کر لئے جائیں اور امن کے قیام و قانون کی پاسداری کے دوران کسی کے خلاف ایف آئی آر دینے کی ضرورت پیش نہ آئے ۔شہر کو امن و سلامتی کا گہوارہ بنانے کیلئے علمائے کرام کی ٹھوس تجاویز کا ہمیشہ خیر مقدم کیا گیا ہے ۔ضلعی و مقامی امن کمیٹیوں کے کردار کو مزید فعال اور موثر بنایا گیا ہے ۔تمام سٹیک ہولڈرز کی باہمی رضامندی سے متنازعہ و اشتعال انگیز تقاریر کی روک تھام اورساؤنڈ ایکٹ،اوقات کار وضابطہ اخلاق کی پابندی، زبان بندی،ضلع بندی پر سختی سے عملدرامد کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بحیثیت ایک باشعور اور مہذب قوم نازک حالات میں امن کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے عقائد کے ساتھ دوسروں کے عقائد کا بھی احترام کریں۔اپنا عقیدہ نہ چھوڑیں اور دوسروں کا عقیدہ نہ چھیڑیں۔آئیں ہم بین المسالک ہم آہنگی،امن و محبت،برداشت،مذہبی رواداری،بھائی چارے ،اتحاد یگانگت کے رویوں کو فروغ دے کے دشمن کے ناپاک عزائم کو ناکام بنائیں۔ حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی لازوال قربانی کا ہدف پوری انسانیت کی فلاح تھا۔ امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اصولوں کی جو جنگ لڑی اس کے اثرات پوری دنیا پر یکساں مرتب ہوئے۔ آپ کے اصول اور آپ کی قربانی جہاں اسلام کی بقا کی ضمانت ہیں وہاں بلا تفریق مذہب و ملت، علاقہ و ملک میں عدل و انصاف کی فراہمی ، حقوق و فرائض کی عدائیگی، جذبہ ایثار و قربانی، عزم و ہمت کے جاویدانی پیغام بھی ہیں۔



Leave A Comment