لاہور: محکمہ زراعت پنجاب نے آم کے درختوں کو نقصان پہنچانے والے خطرناک کیڑے "تیلہ" کے انسداد کے لیے باغبانوں کو اہم ہدایات جاری کر دی ہیں۔

ترجمان کے مطابق آم کا تیلہ ایک نقصان دہ کیڑا ہے جو پودوں کی نشوونما اور پیداوار کو شدید متاثر کرتا ہے، اس کے کنٹرول کے لیے ضروری ہے کہ باغات میں کانٹ چھانٹ کر کے سورج کی روشنی اور ہوا کی بہتر آمدورفت کو یقینی بنایا جائے۔

ماہرین نے ہدایت کی ہے کہ سپرے سے قبل بٹور کی کٹائی کر کے اسے زمین میں دبا دیا جائے تاکہ کیڑے کی افزائش کو روکا جا سکے۔ اس کے علاوہ نائٹروجنی کھاد کے زیادہ استعمال اور غیر ضروری آبپاشی سے بھی گریز کیا جائے۔

محکمہ زراعت نے مزید بتایا کہ درختوں کے تنوں اور موٹی شاخوں پر دوپہر کے وقت مناسب زرعی ادویات کا سپرے کیا جائے اور مکمل نتائج کے لیے پہلے اندرونی اور پھر بیرونی شاخوں کو اچھی طرح کور کیا جائے۔

اگر تیلے کا حملہ شدید ہو تو 5 دن کے وقفے سے دوبارہ سپرے کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق ان سفارشات پر عمل کر کے آم کی پیداوار کو بہتر بنایا جا سکتا ہے اور فصل کو نقصان سے بچایا جا سکتا ہے۔

 

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار