سیالکوٹ: ڈائریکٹر پیسٹ وارننگ و کوالٹی کنٹرول آف پیسٹی سائیڈز، محکمہ زراعت، ڈاکٹر مقصود احمد نے کہا ہے کہ بہاریہ مکئی کی فصل پر کئی کیڑے حملہ آور ہوتے ہیں، جن میں تنے کی سنڈی خاص اہمیت رکھتی ہے۔ اگر ان کی بروقت انسداد نہ کی گئی تو فصل کی پیداوار میں خاطر خواہ کمی واقع ہو سکتی ہے۔

تنے کی سنڈی پاکستان کے مکئی کے تقریباً تمام علاقوں میں پائی جاتی ہے۔ اس کی سنڈیاں تقریباً 20 سے 25 ملی میٹر لمبی ہوتی ہیں، رنگ گدلا سفید اور جسم کے پچھلے حصے پر چار بھورے رنگ کی لائنیں ہوتی ہیں۔ مادہ پتوں کی نچلی سطح پر انڈے دیتی ہے، جو 4 سے 5 دن میں سنڈیاں بن جاتی ہیں۔ سنڈی کی زندگی کے دوران 2 سے 12 دن میں 300 سے زائد انڈے دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ سنڈی فصل کی کونپل کاٹ کر پودے کی بڑھوتری روک دیتی ہے اور شدید حملہ صورت میں فصل بالکل تباہ ہو سکتی ہے۔

بہاریہ مکئی پر سنڈی کا حملہ عموماً مارچ کے آخر یا اپریل کے شروع میں ہوتا ہے۔ کاشتکاروں کو چاہیے کہ فصل کا باقاعدگی سے معائنہ کریں، متاثرہ پودوں کو کھیت سے نکال کر چارہ کے طور پر استعمال کریں اور بچ جانے والے حصے روٹاویٹ کر دیں۔ رات کو روشنی کے پھندے لگا کر پروانے تلف کریں اور فصل کی مناسب ہیر پھیر کریں۔

سست تیلا اور چست تیلہ بھی فصل کو نقصان پہنچاتے ہیں، جس سے پتوں پر سفید نشان اور پتوں کا سوکھنا شروع ہو جاتا ہے۔ شدید حملہ ہونے پر پیداوار میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ لشکری سنڈی، جو پہلے تمباکو، برسیم اور کپاس کی دشمن تھی، گزشتہ چند سالوں سے مکئی پر بھی حملہ کر رہی ہے۔ اس کی سنڈیاں پودوں کے پتوں کو چٹ کر جاتی ہیں اور شدید حملے میں صرف تنا باقی رہتا ہے۔

کاشتکاروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ لشکری سنڈی اور دیگر نقصان دہ کیڑوں کے انسداد کے لیے محکمہ زراعت کے مقامی عملہ سے رہنمائی حاصل کریں اور سپرے کے بعد فصل کو پانی دیں تاکہ نقصان کم سے کم ہو۔

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار