تحریر: چوہدری عبدالقیوم

پولیسنگ کے بارے میں عام رائے یہ بن چکی ہے کہ یہ محکمہ قانون تو نافذ کرتا ہے مگر سماجی اصلاح کی طرف کم توجہ دیتا ہے۔ مگر بعض شخصیات ایسے بھی منصب پر آتی ہیں جو نہ صرف قانون کی پاسداری کرواتی ہیں بلکہ معاشرتی نبض کو بھی سمجھتی ہیں، اور انہی کی بنیاد پر پالیسی سازی کو عملی سمت دیتی ہیں۔ ملتان ڈویژن کے ریجنل ٹریفک پولیس آفیسر، ایس ایس پی محمد کاشف اسلم اسی قبیل کی ایک نمایاں مثال ہیں جنہوں نے ٹریفک سسٹم کو محض ایک سرکاری ذمہ داری نہیں بلکہ انسانی جانوں کے تحفظ کا مشن بنا کر پیش کیا۔

وین ویلنگ کا خاتمہ ، ایک بڑے اجتماعی خطرے پر قابو

ملتان میں وین ویلنگ نوجوانوں کی جانیں نگلتی ایک سنگین سماجی بیماری بن چکی تھی۔ ہر سال درجنوں نوجوان تیز رفتاری اور خطرناک stunts کے سبب حادثات کا شکار ہو رہے تھے۔ ایس ایس پی کاشف اسلم نے اس مسئلے کو محض قانونی خلاف ورزی نہیں سمجھا؛ انہوں نے اسے نوجوانوں کے مستقبل، والدین کی امیدوں اور معاشرے کی اجتماعی سلامتی کا مسئلہ قرار دیا۔
مسلسل آگاہی، والدین سے براہِ راست رابطہ، تعلیمی اداروں میں شعور کی مہمات اور سخت مگر ذمہ دارانہ نگرانی نے چند ماہ میں ماحول بدل ڈالا۔ آج ملتان میں وین ویلنگ کا رجحان تقریباً ختم ہو چکا ہے، اور نوجوان یہ سمجھنے لگے ہیں کہ زندگی کا اصل حسن احتیاط میں ہے۔

تعلیمی اداروں میں شعوری سفر

کاشف اسلم نے ٹریفک قوانین کو کتابی موضوع نہیں رہنے دیا۔ انہوں نے خود سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کا رخ کیا اور نوجوانوں سے براہِ راست گفتگو کی۔ سیمینارز، آگاہی واکس اور سوشل میڈیا فورمز کے ذریعے ٹریفک پولیس اور شہریوں کے درمیان فاصلہ کم ہوا۔
یہی وجہ ہے کہ آج نوجوان نسل ٹریفک قوانین کو سزا نہیں بلکہ زندگی کی حفاظت کا ضابطہ سمجھنے لگی ہے۔

حادثات میں 80 فیصد کمی ، ایک غیر معمولی کامیابی

آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے انہیں ملتان اس ہدف کے ساتھ بھیجا کہ حادثات میں کمی لائی جائے۔
کاشف اسلم نے جدید ٹریفک مینجمنٹ، بہتر پلاننگ اور مضبوط ٹیم ورک سے یہ ہدف نہ صرف حاصل کیا بلکہ پورے ڈویژن کو ایک نئی مثال بنا دیا۔
حادثات میں 80 فیصد کمی کسی بھی علاقے میں ٹریفک حکمت عملی کی غیر معمولی کامیابی سمجھی جاتی ہے۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ درست سمت میں لگن سے کیا گیا کام ہمیشہ نتائج دیتا ہے۔

سیلابی صورتحال میں شاندار خدمات

جنوبی پنجاب میں سیلاب کے دوران ایس ایس پی کاشف اسلم اپنی ٹیم کے ساتھ مکمل طور پر متحرک رہے۔ متاثرین کو محفوظ مقامات تک پہنچانے سے لے کر ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے تک، ہر محاذ پر ان کی موجودگی ایک ذمہ دار قیادت کی دلیل تھی۔
ان کا کردار یہ باور کراتا ہے کہ پولیس کا اصل جوہر صرف قانون نافذ کرنا نہیں بلکہ مشکل وقت میں عوام کے ساتھ کھڑا ہونا ہے۔

شائستگی ، خدمت اور عوامی رابطہ ، ان کی حقیقی طاقت

وکلا ہوں یا میڈیا ، اساتذہ ہوں یا کاروباری شخصیات ، ہر کوئی ان کے نرم لہجے، اعلیٰ اخلاق اور مثبت رویے کا معترف ہے۔
وہ سختی کی بجائے مکالمے کو ترجیح دیتے ہیں، اور یہی وہ عنصر ہے جو انہیں ایک باوقار اور مقبول پولیس آفيسر بناتا ہے۔

لائسنسنگ اور ٹرانسپورٹرز کی تربیت ، شفافیت کا نیا دور

ان کے دور میں ڈرائیونگ لائسنس کا عمل شفاف، آسان اور کرپشن سے پاک ہو گیا۔ ہزاروں شہریوں کو قانونی لائسنس جاری ہوئے، ٹرانسپورٹرز کی باقاعدہ تربیت کی گئی، اور ٹریفک اصولوں کو عملی نمونوں کے ذریعے نافذ کیا گیا۔
آج کا ملتان ٹریفک نظام میں واضح نظم و ضبط کا آئینہ دار ہے۔

نتیجہ: خدمت میں چھپی ہوئی پولیس کا اصل وقار

ایس ایس پی محمد کاشف اسلم کی کامیابیاں یہ ثابت کرتی ہیں کہ پولیس کا اصل احترام طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ خدمت، اخلاق اور پیشہ ورانہ وژن سے جنم لیتا ہے۔
ان کی قیادت نے ملتان ڈویژن کو نہ صرف محفوظ بنایا بلکہ شہریوں کا اعتماد بھی بحال کیا۔ آج ملتان کی سڑکیں پہلے سے زیادہ محفوظ اور لوگ پہلے سے زیادہ مطمئن ہیں ، اور یہ سب ایک سچی نیت اور مسلسل محنت کا نتیجہ ہے۔

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار