تحریر : اسد اللہ داودی


پاکستان میں گھر بنانا عام آدمی کا سب سے بڑا خواب سمجھا جاتا ہے۔ ایک ملازم اپنی تنخواہ سے روپیہ روپیہ جوڑتا ہے، اوورسیز پاکستانی پردیس میں محنت کر کے رقم بھیجتا ہے، اور ریٹائرڈ استاد اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی ایک محفوظ چھت کے لیے لگاتا ہے۔ مگر جب یہی خواب غیر رجسٹرڈ ہاؤسنگ سوسائٹیز، جعلی فائلوں، نامکمل نقشوں اور طاقتور لینڈ مافیا کے ہاتھوں لٹ جائے تو متاثرہ شہری صرف مالی نقصان نہیں اٹھاتا بلکہ ذہنی اذیت، قانونی پیچیدگیوں اور اداروں کے چکروں میں بھی پھنس جاتا ہے۔
ڈیرہ غازی خان میں گلبرگ ہاؤسنگ سوسائٹی، سٹی ہاؤسنگ سوسائٹی اور دیگر غیر رجسٹرڈ کالونیوں کے حوالے سے سامنے آنے والی شکایات نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ آخر عام شہری کو فراڈ سے بچانے کے لیے موجود ادارے بروقت حرکت میں کیوں نہیں آتے؟ اگر کوئی سوسائٹی منظور شدہ نہیں، زمین مکمل طور پر خریدی نہیں گئی، یا نقشے حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتے، تو پھر ان کی فائلیں، اشتہارات اور مارکیٹنگ عوام تک کیسے پہنچتی ہیں؟
ستر سالہ پروفیسر عبدالحمید انصاری، جو گورنمنٹ کالج ڈیرہ غازی خان میں بیالوجی کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ رہ چکے ہیں، آج انصاف کے لیے مختلف دفاتر کے چکر لگا رہے ہیں۔ ان کے مطابق انہوں نے گلبرگ ہاؤسنگ سوسائٹی میں ساڑھے سات مرلے کی دو فائلیں خریدیں، مگر اب نہ انہیں پلاٹ ملا، نہ رقم واپس ہوئی۔ وہ کہتے ہیں کہ ضلعی افسران اور نیب حکام انہیں تسلی دیتے ہیں کہ معاملہ جلد حل ہو جائے گا، مگر تقریبا 12 سال گزرنے کے باوجود عملی ریلیف نہیں ملا۔

News Image

اسی طرح امین شاہ، جو تقریباً 25 برس سے سعودی عرب میں روزگار کے سلسلے میں مقیم ہیں، نے اپنے کزن کے مشورے پر سٹی ہاؤسنگ سوسائٹی میں پلاٹ نمبر 26 خریدا۔ ان کے مطابق فائل واٹس ایپ پر بھیجی گئی اور انہوں نے تین اقساط میں مکمل رقم ادا کر دی۔ جب وہ پاکستان آئے تو معلوم ہوا کہ اسی پلاٹ پر کوئی اور مکان تعمیر کر رہا ہے۔ امین شاہ کے بقول انہوں نے تقریباً ڈیڑھ کروڑ روپے دے کر اپنے لیے پریشانی خریدی، اور اب قانونی راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔
ڈیرہ غازی خان میں ہاؤسنگ سوسائٹیز کے متاثرین میں صرف مرد سرمایہ کار یا اوورسیز پاکستانی شامل نہیں، بلکہ خواتین کی بڑی تعداد بھی ایسی شکایات کے ساتھ سامنے آ رہی ہے جن میں گھر، پلاٹ یا فائل کے نام پر زندگی بھر کی جمع پونجی لگانے کے باوجود نہ قبضہ ملا، نہ رجسٹری، اور نہ ہی رقم کی واپسی کا واضح راستہ نظر آتا ہے۔ متاثرین کے مطابق بعض ہاؤسنگ سوسائٹیز کے دفاتر میں انہیں پہلے مکمل اعتماد دلایا گیا، اقساط بروقت جمع کرائی گئیں، مگر جب قبضے یا رجسٹری کا وقت آیا تو مختلف بہانوں سے انہیں انتظار، اضافی چارجز یا دفتری کارروائی کے نام پر ٹالا جاتا رہا۔
جام پور سے تعلق رکھنے والی شمائلہ بی بی کا کہنا ہے کہ انہوں نے ڈیرہ غازی خان کی ایک ہاؤسنگ سوسائٹی میں اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے پانچ مرلے کی فائل خریدی۔ ان کے مطابق شوہر کے انتقال کے بعد انہوں نے اپنی بچت اور زیورات فروخت کر کے اقساط مکمل کیں، مگر جب وہ پلاٹ دیکھنے پہنچیں تو انہیں بتایا گیا کہ ابھی بلاک کی ڈویلپمنٹ مکمل نہیں ہوئی۔ شمائلہ بی بی کے بقول کئی ماہ دفاتر کے چکر لگانے کے بعد بھی انہیں نہ قبضہ دیا گیا اور نہ رقم واپس کی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ “میں نے گھر بنانے کے لیے رقم جمع کی تھی، مگر اب ہر چکر پر کرایہ، وقت اور عزت نفس الگ خرچ ہوتی ہے۔”
تونسہ شریف کی رہائشی نسرین فاطمہ نے بتایا کہ انہوں نے اپنے بھائی کے مشورے پر ڈیرہ غازی خان کی ایک نجی ہاؤسنگ اسکیم میں پلاٹ بک کرایا تھا۔ انہیں دفتر کی جانب سے نقشہ دکھایا گیا، سڑکیں، پارک اور مسجد کی جگہ بھی بتائی گئی، مگر بعد میں معلوم ہوا کہ جس بلاک میں ان کی فائل تھی وہاں زمین کا معاملہ ہی مکمل طور پر واضح نہیں۔ نسرین فاطمہ کے مطابق جب انہوں نے رقم کی واپسی کا مطالبہ کیا تو انہیں کہا گیا کہ فائل کسی اور کو فروخت کر دیں یا مزید انتظار کریں۔ وہ کہتی ہیں کہ ایک عام خاتون کے لیے ہر ہفتے دفتر جانا، درخواستیں دینا اور افسران کے سامنے اپنی فریاد رکھنا آسان نہیں۔
مظفرگڑھ سے تعلق رکھنے والی رخسانہ پروین کی روداد بھی اسی نوعیت کی ہے۔ ان کے مطابق انہوں نے اوورسیز بیٹے کی بھیجی ہوئی رقم سے ڈیرہ غازی خان کی ایک ہاؤسنگ سوسائٹی میں پلاٹ خریدا تاکہ ریٹائرمنٹ کے بعد خاندان کے لیے مستقل رہائش بن سکے۔ مکمل ادائیگی کے بعد جب رجسٹری کا مطالبہ کیا گیا تو انہیں مختلف کاغذات، منظوری اور ڈویلپمنٹ چارجز کے نام پر دوبارہ رقم جمع کرانے کا کہا گیا۔ رخسانہ پروین کا کہنا ہے کہ “ہم نے جو رقم دی، وہ رسیدوں کے ساتھ دی، مگر اب ہمیں ہر بار نیا بہانہ سننے کو ملتا ہے۔”
اسی طرح ڈیرہ غازی خان شہر کی رہائشی فرزانہ کوثر کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے مقامی ہاؤسنگ سوسائٹی میں ایک پلاٹ کی فائل خریدی، مگر بعد میں انہیں معلوم ہوا کہ اسی نمبر کی فائل پر ایک اور شخص بھی دعویٰ کر رہا ہے۔ فرزانہ کوثر کے مطابق انہوں نے سوسائٹی دفتر، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کو درخواستیں دیں، مگر معاملہ ابھی تک حل نہیں ہو سکا۔ ان کا کہنا ہے کہ خواتین جب ایسے معاملات میں آواز اٹھاتی ہیں تو انہیں اکثر “گھر کے مردوں کو بھیجیں” کہہ کر واپس کر دیا جاتا ہے، حالانکہ رقم ان کی اپنی محنت اور بچت کی ہوتی ہے۔
فیصل آباد کے گٹ والا شاپنگ ہب کے متاثرہ اوورسیز پاکستانی عمران خان شیروانی کی روداد بھی کچھ مختلف نہیں۔ انہوں نے فیس بک پر اشتہار دیکھ کر 2020 میں فوڈ کورٹ خریدا، تین سالہ اقساط 2023 میں مکمل کر دیں، مگر 2025 میں جب پاکستان آئے تو منصوبہ نامکمل تھا۔ ان کے مطابق مارکیٹنگ ہیڈ نے تعمیراتی میٹریل مہنگا ہونے کا جواز بنا کر مزید 38 لاکھ روپے کا بل تھما دیا، حالانکہ ایگریمنٹ میں ایسی کوئی شرط موجود نہیں تھی۔
سوشل میڈیا انفلوئنسر ڈاکٹر مدیحہ اور احسن کا واقعہ بھی اسی طرز کی شکایات میں شامل کیا جا رہا ہے۔ متاثرین کے مطابق انہوں نے بھی ایک پلاٹ خریدنے کے بعد قانونی اور دفتری مشکلات کا سامنا کیا۔ یہ مثال ظاہر کرتی ہے کہ مسئلہ صرف کم تعلیم یافتہ یا سادہ لوح شہریوں تک محدود نہیں، بلکہ پڑھے لکھے، باخبر اور سوشل میڈیا پر فعال افراد بھی دلکش اشتہارات، سہولتوں کے وعدوں اور بظاہر معتبر مارکیٹنگ کے باعث اس جال میں پھنس سکتے ہیں۔
گلبرگ ہاؤسنگ سوسائٹی کے ابتدائی مراحل کے حوالے سے اللہ یار بھٹی کا موقف ہے کہ فیز ون کارپوریشن ڈیرہ غازی خان سے منظور شدہ تھا اور اس وقت شہر میں اس معیار کی کوئی بڑی رہائشی اسکیم موجود نہیں تھی۔ ان کے مطابق فیز ون کم عرصے میں فروخت ہو گیا، جس سے عوام کا اعتماد بڑھا۔ تاہم بعد میں فیز ٹو، فیز تھری، بلاک ڈی، ای، ایف اور اے بلاک ایکسٹینشن کے معاملات سامنے آئے۔ الزام ہے کہ بعض بلاکس کے لیے مطلوبہ زمین موجود نہ ہونے کے باوجود نقشوں میں پارکس، چوک اور سڑکیں دکھا کر ہزاروں فائلیں فروخت کی گئیں۔
قانونی ماہرین حذیفہ رحمان، کمیل حیدر شاہ ایڈووکیٹ اور حیان سلطان ڈاہا ایڈووکیٹ کے مطابق ایسے معاملات میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ شہری فائل خریدتے وقت زمین کی ملکیت، منظور شدہ نقشہ، سرکاری این او سی اور ڈویلپمنٹ اسٹیٹس کی مکمل تصدیق نہیں کرتے۔ حذیفہ رحمان کے مطابق گلبرگ ہاؤسنگ سوسائٹی سے متعلق 94 افراد کا کیس تیار کر کے نیب کو بھجوایا گیا ہے، جبکہ نیب نے مبینہ طور پر 9 ارب روپے مالیت کی ریکوری مالکان کے ذمہ نکالی ہے۔ مقامی وکلا کمیل حیدر شاہ اور حیان سلطان ڈاہا متاثرین کے کیسز سیشن عدالتوں میں لڑ رہے ہیں۔

روزنامہ ایشیا اردو میں پبلش مواد/ارٹیکل
نیب ملتان کے ترجمان عدیل کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق گلبرگ ہاؤسنگ سوسائٹی اور گلبرگ ایگزیکٹو ملتان جیسے معاملات میں تقریباً 1800 متاثرین کا ذکر سامنے آیا ہے، جن میں اوورسیز پاکستانی بھی شامل ہیں۔ الزام ہے کہ فرضی یا نامکمل زمین دکھا کر عوام سے رقوم وصول کی گئیں۔ دوسری طرف متاثرین کا اعتراض ہے کہ نیب اور دیگر اداروں کی کارروائی سست روی کا شکار ہے، جس کا فائدہ مبینہ طور پر طاقتور مالکان کو پہنچتا ہے۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق ڈیرہ غازی خان کی حدود میں 28 غیر رجسٹرڈ کالونیز کی نشاندہی ہوئی، جنہیں نوٹسز جاری کیے گئے اور پانچ کالونیز کو سیل کیا گیا۔ چیف آفیسر کارپوریشن ڈیرہ غازی خان کے مطابق کارپوریشن حدود میں 78 غیر رجسٹرڈ کالونیوں کے بارے میں اخباری اشتہارات جاری کیے گئے اور مالکان کو نوٹسز بھی دیے گئے۔ مگر شہریوں کا اعتراض یہ ہے کہ اگر یہ کالونیز غیر رجسٹرڈ تھیں تو ان کی مارکیٹنگ، بینرز، فائلوں کی فروخت اور سوشل میڈیا اشتہارات کو پہلے دن ہی کیوں نہ روکا گیا؟
متاثرین کے اعتراضات واضح ہیں: ایک ہی پلاٹ کی فائل ایک سے زائد افراد کو فروخت کی جاتی ہے، نقشے میں دکھائے گئے پارکس اور سڑکیں زمین پر موجود نہیں ہوتیں، ایگریمنٹ کے بعد اضافی چارجز مانگے جاتے ہیں، مکمل رقم لینے کے باوجود رجسٹری اور قبضہ نہیں دیا جاتا، اور جب شہری شکایت کرتے ہیں تو انہیں عدالتوں، نیب، ضلعی دفاتر اور تھانوں کے چکر لگانے پڑتے ہیں۔ دوسری طرف ہاؤسنگ سوسائٹیز کے مالکان عموماً تاخیر کی وجہ سرکاری منظوری، ترقیاتی کام، تعمیراتی میٹریل کی قیمتوں میں اضافہ یا زمین کے معاملات کو قرار دیتے ہیں۔
سماجی حلقوں جن میں سابقہ مارکیٹ کمیٹی چئیرمین ڈیرہ غازی خان شیخ اسرار، امجد اقبال ایڈووکیٹ، محمد جنید انور ایڈووکیٹ،تاجرشیخ محمد علی، زاہد قریشی، ظفر اقبال، راشد احمد اور دیگر شہریوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ کسی بھی ہاؤسنگ سوسائٹی کو اس وقت تک مارکیٹنگ کی اجازت نہ دی جائے جب تک زمین کی مکمل رجسٹری، منظور شدہ نقشہ، سرکاری این او سی، ڈویلپمنٹ پلان اور مالی گارنٹی عوامی طور پر دستیاب نہ ہو۔ ہر ضلع میں منظور شدہ اور غیر منظور شدہ کالونیوں کی فہرست ضلعی انتظامیہ، کارپوریشن اور ضلع کونسل کی ویب سائٹ پر باقاعدگی سے اپ ڈیٹ کی جائے۔ فائل سسٹم کو ڈیجیٹل ریکارڈ سے منسلک کیا جائے تاکہ ایک ہی پلاٹ کی دوبارہ فروخت ناممکن ہو۔ اوورسیز پاکستانیوں کے لیے الگ شکایت سیل بنایا جائے جہاں ان کی درخواستوں پر مقررہ مدت میں فیصلہ ہو۔ نیب، ایف آئی اے، ریونیو ڈیپارٹمنٹ، کارپوریشن اور ضلع کونسل کے درمیان مشترکہ ٹاسک فورس بنائی جائے تاکہ کارروائی کاغذی نوٹسز تک محدود نہ رہے۔
گھر کا خواب بیچنا آسان ہے، مگر اس خواب کے ٹوٹنے کی قیمت صرف متاثرہ شہری ادا کرتا ہے۔ پروفیسر عبدالحمید انصاری، امین شاہ، عمران خان شیروانی، ڈاکٹر مدیحہ اور احسن جیسے متاثرین کی کہانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہاؤسنگ فراڈ اب انفرادی مسئلہ نہیں رہا بلکہ ایک منظم معاشرتی، قانونی اور انتظامی بحران بن چکا ہے۔ اگر ریاستی اداروں نے منظوری سے پہلے مارکیٹنگ، جعلی فائلوں، غیر رجسٹرڈ کالونیوں اور سست احتساب کے خلاف سخت نظام نہ بنایا تو عام آدمی اپنی جمع پونجی سے گھر نہیں، پریشانی خریدتا رہے گا۔

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار