فکر امروز/عزیز میرانی

#صحافی#

جب ہوش سنبھالا، زندگی میں ایک اعلی مقام حاصل کرنے اور ایک کامیاب انسان بننے کے خواب دیکھنا شروع کر دئیے۔ آنکھوں میں سجے یہ خواب تین شعبوں کے گرد گھومتے تھے۔ اولیں خواب فوجی بن کر ملک و قوم کی حفاظت کرنا تھا۔ اگر یہ کسی وجہ سے ممکن نہ ہو تو دوسری ترجیح استاد بننا اور اگر ان دونوں خوابوں کو تعبیر نہ ملے تو لکھاری بننا یا صحافت کے شعبے سے منسلک ہونا تھا۔
خدا اتنا مہربان ہوا کہ اسی ترتیب سے یکے بعد دیگرے تینوں خوابوں کو تعبیر ملتی گئی۔ اولا" فوجی بنا، فوج میں رہ کر سگنلز کالج، کمانڈ اینڈ سٹاف کالج اور پھر نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں استاد رہنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ اور  پھر اخبارات میں لکھنے حتی کہ مصنف بننے کے خواب کو بھی اللہ تعالٰی نے تعبیر عطاء فرمادی۔ یہ تمہید میں نے آج کے عنوان سے اپنی وابستگی اور اس کی اہمیت اجاگر کرنے کے لئے باندھی ہے۔
**********************************
آج اس موضوع پر یہ قدرے طولانی تحریر لکھنے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ تصویر کا وہ رخ زیادہ نمایاں کیا جائے جو عموما" ہماری نظروں سے اوجھل رہتا ہے۔ یہ اس لئے بھی ضروری سمجھا کہ آجکل لیہ میں اس موضوع پر کافی لے دے ہورہی ہے۔
***********************************
یہ حقیقت ہے کہ ہر معاشرے، طبقے اور ادارے میں اچھے برے لوگوں کا ہونا ایک قدرتی امر ہے۔ شر اور خیر کی قوتیں اللہ تعالی نے پیدا کیں اور یہ مشیت ایزدی کا حصہ ہیں۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ ان کے تناسب کا جھکاو کبھی ایک کے حق میں تو کہیں دوسرے کے حق میں ہوتا رہتا ہے۔ اس لئے ہمیں کسی بھی معاملے میں اجتماعی رائے قائم کرنے کے لئے اسے انفرادی بنیادوں پر نہیں بلکہ بحیثیت مجموعی پرکھنے کی عادت ڈالنی چاہیے۔ معاملات ہوں یا شخصیات۔ یہ صرف سیاہ یا سفید نہیں ہوتے بلکہ ان کے کئی رنگ ہوتے ہیں۔ چنانچہ صحافی حضرات اور صحافت ہماری اسی ہمہ گیر نگاہ کے حقدار ہیں۔
عصر حاضر میں تمام پیشوں کی طرح صحافت بھی ایک پیشہ ہے اور اتنا ہی معتبر ہے جتنا دیگر پیشے ہیں۔ ہم انصاف سے کام لیں گے تو یہ سمجھنا مشکل نہیں ہونا چاہیے کہ صحافی ہماری طرح کا ایک انسان ہے، اس کے بھی زندگی سے جڑے کچھ خواب ہیں۔ اس کی بھی دنیاوی ضروریات ہیں۔ ایک عام صحافی کو کوئی تنخواہ یا گرانٹ نہیں ملتی اور نہ ہی معاشرہ رضاکارانہ طور پر اس کی ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانے کے لئے تیار ہوتا ہے۔ در ایں حالات اس کا روزگار اسی پیشے سے وابستہ جدوجہد سے جڑا ہے۔ لیکن ہمیں اکثر اوقات اس کا ادراک نہیں ہوپاتا۔ ہم لوگ یہ تو ضرور چاہتے ہیں کہ ہماری یا ہمارے فنکشنز کی بھرپور پبلسٹی ہو لیکن اس کام کا مناسب انعام یا معاوضے کی رضاکارانہ ادائیگی ضروری خیال نہیں کرتے۔ اور اگر وہ اس کا اشارتا" ذکر بھی کریں تو ہم نالاں ہوجاتے ہیں۔ 
ہم سب کو اس طرز عمل پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ صحافی کو فکر معاش سے کسی حد تک آزاد کئے بغیر معاشرہ اس سے مکمل غیرجانبداری کی توقع رکھنے میں حق بجانب نہیں ہوسکتا۔
چنانچہ ان پر طعن و تشنیع کی بجائے ان کے اس پیشہ سے وابستہ روزگار کے حق کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔ ہاں البتہ جو صحافت کے علمبردار ہوس کے قیدی بن کر اور حقوق کی حدود سے باہر نکل کر قلم کی حرمت کو بیچنے لگ جائیں، ان کو بھی کٹہرے میں کھڑا کرنا چاہیے اور ان کی بھرپور مذمت کی جانی چاہیے۔
****************************
ایک سوال صحافیوں کے تعلیمی معیار اور استعداد پر اٹھایا جاتا ہے۔ اس کا نہائت مدلل جواب محترم انجم صحرائی صاحب اپنے ایک حالیہ کالم میں نہائت حکیمانہ انداز میں دے چکے ہیں۔ قارئین وہ ان کی وال پر پڑھ سکتے ہیں۔ میں ان کا سب سے وزنی نکتہ یہاں دہرا دیتا ہوں۔ انہوں نے لکھا کہ جب ملک کے حکمران جن کے ہاتھ میں ہم اپنی اور بچوں کی تقدیریں دے دیتے ہیں، ان میں ایک قابل ذکر تعداد نہ صرف کم پڑھے لکھے بلکہ انگوٹھا چھاپ نمائیندوں پر مشتمل ہوتی ہے تو کم پڑھے لکھے صحافی قابل قبول کیوں نہیں ہیں؟
اس نکتے کی وضاحت کے لئے مجھے پنجاب کے ایک سابقہ وزیر اعلی غالبا" غلام حیدر وائیں مرحوم کا کہا ہوا ایک ضرب المثل جملہ یاد آ رہا ہے۔ آپ سب دوستوں کو بھی یاد ہوگا۔ انھوں نے کہا تھا کہ "اس ملک کو جتنا نقصان پڑھے لکھے لوگوں نے پہنچایا ہے، ان پڑھ لوگوں نے نہیں پہنچایا۔"
***********************************
اسی طرح کچھ دوست میرٹ کی بات کرتے ہیں، صحافی بننے کے لئے کسی امتحان، انٹرویو کے نہ ہونے کا ذکر کرتے ہیں۔ میں صرف یہ کہوں گا کہ ہمارے سول سروس افسران جن سے روزہا واسطہ پڑتا ہے۔ نہائت کڑے امتحان اور انٹرویوز کے بعد منتخب ہوتے ہیں۔ لیکن آپ سب اتفاق کریں گے کہ ان کی اکثریت کرپٹ، کام چور، فرعونیت کا شکار اور نا فرض شناس ہوتی ہے۔ وطن عزیز میں کوئی بھی غلط کام افسر شاہی کی ملی بھگت کے بغیر نہی ہوسکتا۔ 
کہنے کا مطلب یہ ہے کہ کسی امتحان یا انٹرویو میں پاس ہوکر کسی پیشے 
بشمول صحافت میں آنا کسی کے باکردار ہونے کی ضمانت نہی ہے۔

News Image

*******************************
اب میں کالم کے مرکزی خیال کی طرف آتا ہوں۔ کبھی ہم نے سوچا ہے کہ ہمیں اپنے شہر، علاقے، ملک اور دنیا بھر کی خبریں کون دیتا ہے؟ اگر یہ خبریں اور اطلاعات ہم تک نہ پہنچیں۔ تو ہمارے پاس لکھنے، بولنے کے لئے کیا ہوگا؟ کیا ہر طرف لاعلمی کا اندھیرا نہی چھا جائیگا؟ اور کیا زندگی بے رنگ نہی ہوجائیگی؟
صاحبان صحافت پر جائز تنقید بیشک کریں۔ صحافت کے لبادے میں چھپی کالی بھیڑوں کو بھی ضرور بے نقاب کریں۔ لیکن  تنقید سے پہلے اس سوال پر بھی غور کریں کہ حکومتی ایوانوں اور انتظامی افسران کے کالے کرتوت اور لوٹ مار کی کہانیاں ہمیں کون سناتا ہے؟  یہ صحافی حضرات ہی ہیں جو اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر یہ قومی خدمت انجام دیتے ہیں۔
اگر وہ یہ قومی اور معاشرتی ذمہ داری پوری نہ کریں تو وطن عزیز کا کیا حشر ہوگا؟
حرام خور افراد چاہے اقتدار کے ایوانوں میں ہوں، چاہے افسر شاہی کی صفوں میں۔ خدا خوفی سے بہت دور ہوتے ہیں۔ اللہ تعالی کی ذات یا زندگی بعدالموت پر بھی ان کا یقین نہی ہوتا۔ یہ رسول خدا کے راشی اور المرتشی والے فرمان کو بھی اہمیت نہیں دیتے۔ ایسا ہوتا تو وہ لوٹ مار اور رشوت خوری کا سوچ بھی نہ سکتے۔ اس لئے ان پر کسی قسم کے اخلاقی درس اثر نہیں کرتے۔
ایسے لوگ کسی قاعدے یا قانون سے بھی نہیں ڈرتے۔ اس لئے نہیں کہ قانون موم کی ناک ہوتا ہے بلکہ اس لئے کہ وطن عزیز میں باوسیلہ اور بے وسیلہ لوگوں کے لئے علیحدہ علیحدہ قوانین  ہیں۔ اگر نہ ہوں تو یہ اپنی مرضی کے قوانین  بنا یا بنوا لیتے ہیں۔ 
یہ معاشرے میں اپنی بے عزتی سے بھی خوفزدہ نہیں ہوتے کیونکہ اول تو ایسے لوگوں کی عزت نہیں ہوتی اور اگر ہوتی بھی ہے تو مفاد پرست اور بے ضمیر لوگ اپنے خوشامدی طرز عمل سے نہ صرف انہیں اس کا احساس نہیں ہونے دیتے بلکہ انہیں اپنے کندھوں پر اٹھا کر رکھتے ہیں۔ 
اگر میں غلط کہہ رہا ہوں یا آپ کا تجربہ کچھ مختلف ہے تو آپ کہانی کے اس پہلو پر روشنی ڈال سکتے ہیں۔
******************************* 
اس تاریک ماحول میں کوئی روشنی کی کرن بھی ہے؟ جی بالکل ہے۔ یہی صحافی حضرات ہی ہیں جو ان کی بدعنوانیوں کا کھوج لگاتے ہیں اور عوام کے سامنے لے آتے ہیں۔ بیشک ایسے بدعنوان عناصر کو قرار واقعی سزا ملے نہ ملے لیکن عوام اور میڈیا کا باہمی پریشر ان کے لئے پریشانی کا باعٹ ضرور بن جاتا ہے۔ 
ذرہ سوچئے اگر یہ بھی نہ ہوں تو کس طرح وقت کے راجہ گدھ وطن عزیز کو نوچ نوچ کر  کھا جائیں گے۔ عوام کو خبر اس وقت ہوگی جب ملک کی کشتی ڈوبنے لگے گی اور وہ اس کے ساتھ غرقاب ہورہے ہونگے۔
******************************

روزنامہ ایشیا اردو میں پبلش مواد
اس لئے یہ چراغ نہ بجھنے دیں۔ اپنی تنقید سے انہیں اس حد تک کمزور نہ کردیں کہ ناپسندیدہ عناصر کھل کر کھیلنے لگیں۔ صحافی حضرات کو بھی حرمت قلم کا اسیر رہنا چاہیے۔ وہ قلم اور زبان کو  ناجائز مفاد کے حصول کے لئے استعمال نہ کریں۔ ورنہ وہ بھی ماحول کو بھیانک اور معاشرے کو اندھیروں میں دھکیلنے کے مہرے سمجھے جائیں گے۔
****************************** 
اللہ تعالی ہمیں اس مختصر زندگی میں دنیاوی الائشوں کی محبت سے پاک رکھے اور انسان رہنے کے شرف سے سرفراز فرماتا رہے۔ آمین

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار