فکر امروز 
عزیز میرانی

مجھے حیرت اس بات پر نہیں کہ عوام کی غیر نمائندہ ایم پی اے اور ڈی سی او لیہ کے درمیان معاملہ جو محض ایک چائے کی پیالی میں طوفان کی مانند تھا، اس قدر اچھالا گیا کہ وہ اتنا وائرل ہو گیا ہے کہ ملکی سرحدیں پار کر گیا ہے۔ 
یہاں تک کہ میں چونکہ اپنے ادارے میں لیہ کے نام سے جانا اور پہچانا جاتا رہا ہوں، دوستوں کے سوالوں نے میرا بھی ناک میں دم کر دیا ہے۔ گزشتہ رات ہمارے ادارے کی ایک پچاس سالہ تقریب تھی جو زیادہ تر اس معاملے کی وضاحتیں دینے میں گزری۔ 
***********
لیکن مجھے اس بات پر حیرت ضرور ہے کہ میرے ضلع کے اہل قلم اور اصحاب رائے لوگوں نے اس بات پر کبھی احتجاج نہیں کیا کہ ضلع بھر سے عوام کے 7 منتخب نمائندے اس تقریب میں کیوں موجود نہیں تھے؟
کچھ اطلاعات کے مطابق انہیں قومی اہمیت کے اس ایونٹ میں تقریب کی انتظامیہ کی طرف سے دعوت ہی نہیں دی گئی تھی۔
***********
اگر یہ اطلاع درست ہے تو پھر سوال یہ ہے۔
# کیا یہ کوئی ذاتی تقریب تھی؟ 
# کیا یہ علاقائی اور قومی تقریب نہیں تھی؟ 
# کیا اس پر عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ نہیں لگا؟
# کیا اس پر مقامی لوگوں  سے لیا ہوا چندہ استعمال نہیں ہوا؟
# کیا اس میں عوام کے منتخب نمائیندوں کی عزت افزائی نہیں ہونی چاہیے تھی؟ 
***********
میرے ان سوالوں کا مثبت جواب صرف وہی لوگ دے سکیں گے جو ایک غیر جانبدارانہ نکتہ نظر رکھتے ہیں۔
***********
*کاش لیہ کے لکھاری، صحافی، سول سوسائیٹی ایک ہی پارٹی کی دو خواتین کی آپس کی بدمزگی کو اچھالنے پر اپنا قلم اور توانائی خرچ نہ کرتے۔
*کاش وہ سب سیاسی اور ذاتی مصلحتوں سے بالاتر ہوکر اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرتے.
 *کاش وہ نہ صرف انتظامیہ کی منتخب نمائیندوں سے اس ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرتے، بلکہ احتجاج بھی کرتے۔
***********
*میں یہاں اس تلخ حقیقت کا اظہار کئے بغیر بھی نہیں  رہ سکتا، کہ 
*ہمارے علاقائی منتخب نمائیندوں میں بھی دم خم نہیں ہے۔ ان میں بھی ہر طرح کی جرات کا فقدان ہے۔ 
*وہ بھی اپنی ذمہ داریوں سے کنارہ کش ہیں۔ 
*انہوں نے بھی صرف اسمبلی میں کبھی کبھار تقریر کرنے اور  شادیوں، جنازوں میں شرکت کو ہی سب کچھ سمجھ لیا ہے۔
*انہیں بھی کسی دعوت نامے کا انتظار کئے بغیر وسیب کی پہچان اس ایونٹ میں اپنی موجودگی یقینی بناکر اس کی اہمیت کو بڑھانا چاہیے تھا۔
*حیرت ہے کہ ایسے نمائیندے جو مقامی انتظامیہ سے اپنا حق بھی وصول نہیں کر سکتے اور کونوں کھدروں میں دبکے پڑے ہیں، وہ مقامی ابادی کے حقوق کا تحفظ کیا خاک کریں گے۔😢
***********
آج ہم میں سے بعض لوگ عوامی منتخب نمائیندوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے اس 'حسن سلوک' پر مطمعن ہو سکتے ہیں۔ لیکن باشعور لوگوں کو میرے جیسے شخص کو یہ سمجھانے کی ضرورت نہیں کہ یہ منتخب عوامی نمائیندوں کی توہین نہیں، یہ ضلع بھر کے عوام کی توہین ہے یہ اجتماعی شعور کی توہین ہے اور یہ قلم کی حرمت کی توہین ہے۔
***********
دعا ہے کہ اللہ تعالی ہم لوگوں میں علامہ اقبال کا نور بصیرت عام کردے۔ آمین

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار