سانحہ ہری پور: 3 سالہ آیت نور کے قتل کی لرزہ خیز تفصیلات
سانحہ ہری پور: 3 سالہ آیت نور پر گزرے ظلم کی لرزہ خیز روداد، 10 سالہ حسن نے 2000 روپے کے لالچ میں ملزمان تک کیسے پہنچایا؟
سانحہ ہری پور میں 3 سالہ آیت نور پر گزرنے والے ظلم کی داستان انتہائی دلخراش ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق ننھی آیت نور کے ساتھ بدترین زیادتی کی گئی، اس کی رانوں اور کولہے کی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی تھیں، جبکہ موت شدید خون بہہ جانے اور جسم پر موجود متعدد زخموں کے باعث ہوئی۔ جب بچی کو کنویں میں پھینکا گیا تو اس وقت وہ پہلے ہی دم توڑ چکی تھی۔
آیت نور جس روز ماڈل ٹاؤن ہری پور میں اپنے گھر کے باہر کھیلتے ہوئے لاپتا ہوئی، پولیس نے اسی روز سے سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے ملزمان کی تلاش شروع کر دی تھی۔ مختلف کیمروں کی فوٹیجز میں آیت نور ایک 10 سالہ لڑکے حسن کے پیچھے جاتی ہوئی دکھائی دی۔ حسن بچی سے کچھ فاصلے پر آگے چل رہا تھا، تاہم اگر بچی تھک کر رک جاتی تو وہ بھی رک جاتا تھا۔
ابتدائی طور پر پولیس نے حسن سے پوچھ گچھ کی۔ کمسن ہونے اور اس کی معصومیت کا خیال رکھتے ہوئے اسے کسی قسم کی سختی کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور پولیس نے اس کی باتوں پر یقین کیا۔
بعد ازاں پولیس حراست میں موجود ملزمان نے اپنے جرم کا اعتراف تو کر لیا، تاہم بچی کی لاش برآمد کروانے سے انکاری رہے۔ اس صورتحال میں پولیس کو دوبارہ 10 سالہ حسن کو تھانے لانا پڑا۔
کئی گھنٹے پوچھ گچھ کے باوجود حسن واقعے سے لاعلمی ظاہر کرتا رہا۔ بعد ازاں ایک پشتون پولیس افسر نے مبینہ طور پر انتہائی شفقت سے اسے اعتماد میں لیا اور کہا کہ ’’یہ لو 2000 روپے، ہمیں صرف بچی کی لاش کی جگہ بتا دو، اس کے بعد تم گھر چلے جانا اور ہم بھی اپنا کام کریں گے۔‘‘
پولیس کے مطابق حسن بالآخر رضامند ہوگیا اور بتایا کہ ’’میں نے کوئی گندا کام نہیں کیا، مجھے ان لڑکوں نے کہا تھا کہ کسی طرح بچی کو یہاں لے آؤ، ہم تمہیں پیسے دیں گے۔‘‘
حسن کی نشاندہی پر پولیس اس کنویں تک پہنچی جہاں ملزمان نے بچی کو پھینکا تھا۔ پولیس نے وہاں سے آیت نور کی لاش برآمد کر لی، جو ایک بوری میں بند تھی۔
تفتیش کے دوران پولیس کو حسن کے بارے میں مزید اہم معلومات بھی ملیں، تاہم اس کے کردار اور دیگر الزامات سے متعلق حتمی فیصلہ تحقیقات اور قانونی کارروائی کے بعد ہی سامنے آئے گا۔
اس افسوسناک واقعے میں پولیس کی کاوشوں کا ذکر بھی ضروری ہے۔ اگرچہ پولیس اس جرم کو ہونے سے نہ روک سکی، تاہم واقعے کے بعد پولیس کی پوری ٹیم نے کئی روز کی انتھک محنت کے بعد کیس کو حل کیا اور تمام مبینہ طور پر ملوث ملزمان کو حراست میں لے لیا۔
آیت نور کی تلاش کے دوران ایس ایس پی ثمینہ ظفر کو بھی کئی مواقع پر جذباتی ہوتے دیکھا گیا۔ خصوصاً جب بچی کی لاش برآمد ہوئی تو وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑیں۔ یہی نہیں، بچی کی تلاش کے دوران خاتون پولیس افسر کو خود اپنے ہاتھوں سے مختلف مقامات پر کھدائی کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔
ڈی پی او شفیع اللہ گنڈاپور بھی اس مشن کے دوران کئی مرتبہ جذباتی ہوئے اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے یہ کہتے پائے گئے کہ کاش ہم اس قابل ہوتے کہ اس معصوم بچی کے ساتھ ہونے والے ظلم کا راستہ روک لیتے۔
آیت نور کی دردناک موت نے ہر حساس دل کو غمزدہ کر دیا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ننھی آیت نور کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور اس کے والدین و اہل خانہ کو یہ ناقابلِ برداشت صدمہ برداشت کرنے کے لیے صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
بے شک آیت نور ایک ننھی سی جان تھی، مگر اس کے ساتھ ہونے والا ظلم معاشرے کے لیے ایک بڑا سوال چھوڑ گیا ہے


_2026_09_16_13_24_35_85734178.jpg)
Leave A Comment