ملتان: وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے کہا ہے کہ محرومیوں کا ذکر کرکے پاکستان کو مزید تقسیم نہ کریں، بیروزگاری اور غربت ہر جگہ ہے، ایک سال میں تمام ٹرینیں اپ گریڈ نہیں کی جاسکتیں، تاہم ریلوے کی خامیوں کو دور کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

ملتان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے کہا کہ ریلوے میں اصلاحات کا عمل جاری ہے اور ادارے کی خامیوں کو دور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ریلوے کی لیز سے حاصل ہونے والی آمدن 8 ارب روپے سے بڑھا کر 16 ارب روپے تک لے کر گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قراقرم، ملت سمیت دیگر ٹرینوں کو اپ گریڈ کیا جارہا ہے، جبکہ مرحلہ وار تمام ریل گاڑیوں کو بھی اپ گریڈ کیا جائے گا۔ ایک سال میں تمام ٹرینوں کو اپ گریڈ کرنا ممکن نہیں، تاہم بہتری کے لیے عملی اقدامات کیے جارہے ہیں۔

حنیف عباسی نے کہا کہ روہڑی سے کراچی تک ریلوے ٹریک کو اپ گریڈ کیا جائے گا، جبکہ روہڑی سے ملتان تک ٹریک کی بہتری پر بھی کام کیا جائے گا۔ ریلوے کی بہتری کے لیے صوبائی حکومتوں سے بھی بات چیت کی گئی ہے۔

وفاقی وزیر ریلوے نے کہا کہ پاکستان ریلوے ڈیجیٹلائزیشن کی جانب بھی بڑھ رہا ہے۔ 5 سے 6 ٹرینوں کو آؤٹ سورس کیا جاچکا ہے، جبکہ سندھ حکومت کے تعاون سے روہڑی جنکشن کی تعمیر و ترقی پر بھی کام کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پرانی ٹرینوں کو بحال کیا جارہا ہے، جبکہ ریلوے کے اسکولوں کو بھی آؤٹ سورس کردیا گیا ہے۔ پنجاب حکومت کے تعاون سے ریلوے کالونیوں کے سیوریج نظام کو بھی بہتر بنایا جائے گا۔

محمد حنیف عباسی نے کہا کہ گزشتہ 6 ماہ سے ریلوے ملازمین کی تنخواہیں بروقت ادا کی جارہی ہیں۔ ریلوے ملازمین کی پنشن کی مد میں سالانہ 62 ارب روپے ادا کیے جارہے ہیں، اگر پنشن کی رقم کو الگ کردیا جائے تو ریلوے کو 5 ارب روپے منافع میں قرار دیا جاسکتا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ریلوے ایک عرصے سے تنزلی کی جانب جارہا تھا، تاہم موجودہ حکومت نے ادارے کی آمدن میں اضافہ کیا ہے۔ ریلوے کی آمدن 88 ارب روپے سے بڑھا کر 115 ارب روپے تک لے کر گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بیروزگاری اور غربت صرف کسی ایک علاقے کا مسئلہ نہیں بلکہ ملک کے مختلف حصوں میں موجود ہے، اس لیے محرومیوں کا ذکر کرکے پاکستان کو مزید تقسیم کرنے کے بجائے مسائل کے حل اور قومی ترقی پر توجہ دینی چاہیے۔

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار