جامعہ زرعیہ فیصل آباد میں پاکستان کا پہلا زرعی میوزیم، زرعی ورثے کے تحفظ میں سنگِ میل قرار
زرعی ماہرین اور بین الاقوامی نمائندوں نے کہا ہے کہ جامعہ زرعیہ فیصل آباد میں پاکستان کا پہلا زرعی میوزیم زرعی ورثے کے تحفظ اور جدید تحقیق کے فروغ میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔
یہ بات جامعہ زرعیہ فیصل آباد میں انسٹی ٹیوٹ آف ایگریکلچر ایکسٹینشن ایجوکیشن اینڈ رورل ڈویلپمنٹ اور محکمہ پلانٹ بریڈنگ اینڈ جینیٹکس کے تعاون سے منعقدہ دو روزہ بین الاقوامی سمپوزیم کے دوران کہی گئی۔
ماہرین کے مطابق زرعی میوزیم کے ذریعے نہ صرف روایتی زرعی ورثہ محفوظ کیا جا سکے گا بلکہ جدید تحقیق، تعلیمی تعاون اور کمیونٹی شمولیت کے ذریعے زرعی ترقی اور غذائی تحفظ کو بھی فروغ ملے گا۔
زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی نے بتایا کہ یہ پاکستان کا پہلا زرعی میوزیم ہوگا جس کا اندرونی رقبہ 55 ہزار مربع فٹ اور بیرونی رقبہ 32 ہزار مربع فٹ پر محیط ہوگا۔ اس میں 30 سے زائد گیلریاں اور ایک ”ہال آف فیم” بھی شامل ہوگا جہاں روایتی سے جدید زرعی ٹیکنالوجی تک نمائش کی جائے گی۔
بین الاقوامی ماہرین نے بھی آن لائن خطاب میں زرعی تعلیم اور تحقیقی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔ واشنگٹن اسٹیٹ یونیورسٹی کے ماہرین نے پاکستان کو جدید زرعی ٹیکنالوجی اور گرمی برداشت کرنے والی گندم کی جینیاتی لائنیں فراہم کرنے کا ذکر کیا۔
سعدیہ زینب کے مطابق میوزیم میں ڈیجیٹل نمائشیں، ہربیریم، فلورا اینڈ فانا سینٹر اور وی آر پر مبنی سہولیات بھی شامل ہوں گی جبکہ بیرونی حصے میں روایتی گاؤں اور جدید زرعی ماڈلز پیش کیے جائیں گے۔
_2026_05_23_10_14_07_85858409.jpg)
_2026_08_13_08_13_35_57207435.jpg)
_2026_08_13_08_11_27_91345821.jpg)
Leave A Comment