تحریر: چوہدری عبدالکریم

گرمیوں کے طویل دن ہوں یا سردیوں کی یخ بستہ راتیں، پاکستانی گھروں کا ایک مسئلہ ہمیشہ ایک سا رہتا ہے — بل۔ کبھی بجلی کا بل جیب ہلکا کرتا ہے، کبھی گیس کا۔ لیکن کیا ہم نے کبھی غور کیا کہ یہ صرف موسم نہیں، بلکہ ہماری استعمال کی حکمتِ عملی بھی ہے جو بلوں کے بوجھ کو بڑھاتی ہے؟

گرمیوں میں جیسے ہی پنکھے، اے سی اور پانی کی موٹریں چلتی ہیں، بجلی کے یونٹ تیزی سے اوپر جاتے ہیں۔ نتیجہ — بل میں اضافہ، اور اس پر مختلف ٹیکسوں کی بھرمار۔ یہ ٹیکس ایک بار لگنے کے بعد اگلے کئی مہینوں تک ہمارے بلوں میں رہتے ہیں، چاہے ہم بعد میں بجلی کا استعمال کم ہی کیوں نہ کریں۔

پھر سردیاں آتی ہیں۔ اب بجلی کا خرچ تو کم ہو جاتا ہے، مگر گیس کا میٹر تیز چلنے لگتا ہے۔ گیزر، ہیٹر اور چولہے کے استعمال سے 90 یونٹ کی حد آسانی سے پار ہو جاتی ہے، اور جیسے ہی یہ حد عبور ہوتی ہے، گیس کا بل بھی کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ یوں ہم ایک نئے ٹیکس کے دائرے میں داخل ہو جاتے ہیں — جو پھر گرمیوں میں بھی ہمارا پیچھا نہیں چھوڑتا۔

اب ذرا سوچئے — ہم ایک ہی وقت میں بجلی کے ٹیکس بھی ادا کر رہے ہیں اور سردیوں میں گیس پر اضافی ٹیکس بھی۔ کیا یہ دانشمندی ہے؟ شاید نہیں۔

اگر ہم تھوڑا سا حساب کتاب سمجھ لیں تو بوجھ کم ہو سکتا ہے۔ چونکہ ہم پہلے ہی بجلی پر ٹیکس دے رہے ہیں، اس لیے سردیوں میں گیس کا استعمال کم کر کے بجلی سے چلنے والی اشیاء استعمال کرنا زیادہ فائدہ مند ہے۔ مثلاً الیکٹرک ہیٹر، الیکٹرک گیزر یا الیکٹرک ککر۔ اس طرح گیس کے 90 یونٹ سے اوپر نہیں جائیں گے، اور اضافی ٹیکس سے نجات ملے گی۔

یہ صرف ایک گھریلو ترکیب نہیں بلکہ ایک معاشی تدبیر ہے۔ بجلی اور گیس کے درمیان توازن قائم کر کے ہم اپنے سالانہ بلوں میں نمایاں کمی لا سکتے ہیں۔ بات صرف تھوڑی سی منصوبہ بندی اور تھوڑا سا شعور پیدا کرنے کی ہے۔

آخر میں ایک سادہ سا سوال —
اگر بجلی پر ٹیکس دینا ویسے بھی طے ہے، تو کیوں نہ اسی ٹیکس کے اندر رہتے ہوئے اپنے کام نکالیں؟
یوں ہم گیس کے اضافی ٹیکس سے بچ سکتے ہیں، اور گرمیوں میں وہی مالی بوجھ دوبارہ نہیں اٹھانا پڑے گا۔

تھوڑی سی سمجھداری، تھوڑا سا خیال — اور ہمارے گھروں کے بل واقعی آدھے ہو سکتے ہیں

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار