تحریر نعمان حفیظ 
ڈیرہ غازی خان کی سیاست ہمیشہ سے روایتی جماعتی لائن کے بجائے قبائلی اثر و رسوخ، مقامی دھڑوں اور ذاتی تعلقات کے گرد گھومتی رہی ہے، اور این اے 185 کے ضمنی انتخاب نے اس حقیقت کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔ یہ انتخاب پی ٹی آئی کی زرتاج گل کی نااہلی کے بعد خالی ہونے والی نشست پر 23 نومبر کو ہو رہا ہے، لیکن اصل مقابلہ جماعتوں سے زیادہ دو بڑے قبائل لغاری اور کھوسہ کے درمیان ہے، جن کی سیاست پورے خطے کا سیاسی درجہ حرارت طے کرتی ہے۔ مسلم لیگ (ن) نے حکومتی اثر و رسوخ، مضبوط تنظیم اور اقتداری سہولتوں کے بل پر سردار محمود قادر لغاری کو میدان میں اتارا ہے، جب کہ پیپلز پارٹی نے سابق وزیراعلیٰ سردار دوست محمد کھوسہ کو انتخابی اکھاڑے میں بھیجا ہے۔ دونوں امیدوار اپنی جماعتوں سے بڑھ کر اپنی قبائلی بنیادوں، مقامی اثر و رسوخ اور برادریوں کے ووٹ پر زیادہ انحصار کر رہے ہیں۔
ضمنی انتخابات عموماً کم ٹرن آؤٹ کا شکار ہوتے ہیں، اور پی ٹی آئی کے بائیکاٹ نے شہری طبقے کی دلچسپی مزید کم کر دی ہے۔ اس صورت میں دیہی ووٹ اور قبائلی نیٹ ورک فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتے ہیں—اور یہی مسلم لیگ (ن) کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ لغاری خاندان حکومتی طاقت، انتظامی روابط اور سیاسی یکجتی کے ساتھ میدان میں ہے، جبکہ کھوسہ خاندان اپنی تاریخی حیثیت، وسیع حلقہ اثر اور علاقائی وفاداریوں پر اعتماد کیے ہوئے ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ دونوں جماعتیں مرکز اور پنجاب میں اتحادی ہونے کے باوجود ایک دوسرے کے خلاف بھرپور انتخابی لڑائی لڑ رہی ہیں، جس نے انتخابی فضا میں ایسی گرمی پیدا کر دی ہے جو ڈیرہ غازی خان کے عوام کے لیے ایک سیاسی تماشا بن چکی ہے۔
ڈیرہ کی شہری سیاست میں اگرچہ مسلم لیگ (ن) کا ووٹ موجود ہے مگر مقامی گروپ بندیوں کے اختلافات اور وعدوں وعید نے ماحول کو مشکوک بھی بنایا ہے۔ دوسری طرف کھوسہ خاندان اپنے مخصوص حلقوں میں اب بھی مضبوط ہے، اور پیپلز پارٹی کے کمزور ووٹ بینک کے باوجود مقامی برادریوں کے جذبے اور ضدی وفاداریوں کے سہارے انتخابی میدان میں کھڑے ہیں۔ یہ مقابلہ جماعتی منشور سے زیادہ “بیرکس کی طاقت” اور “جہازوں کی اڑان” پر منحصر نظر آتا ہے۔ اس وقت ووٹر کے سامنے ایک جانب حکومتی پشت پناہی کے ساتھ لغاری سردار ہیں، اور دوسری طرف سیاسی تنہائی کے باوجود "روایتی کم بیک" کی تلاش میں کھوسہ خاندان۔
ڈیرہ غازی خان کا حلقہ این اے 185 ان دنوں ملکی سیاست کا ایک اہم مرکز بن چکا ہے۔ ایک طرف پاکستان تحریک انصاف کے کارکن خوف اور بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا ہیں، تو دوسری جانب مسلم لیگ (ن) اعتماد کے ساتھ اپنی انتخابی مہم کو فیصلہ کن موڑ دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ پی ٹی آئی کا ووٹر، جو کبھی بھرپور جذبے سے اپنی جماعت کا پرچم بلند کرتا تھا، آج مقدمات، گرفتاریوں اور سیاسی انتشار کے باعث مایوس و پسپا دکھائی دیتا ہے۔ لیکن اس مایوسی میں بھی ایک ایسا احساس موجود ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا اور وہ ہے سردار دوست محمد کھوسہ کا وہ اخلاقی اور انسانی قرض جس نے درجنوں خاندانوں کو مشکل وقت میں سہارا دیا۔
 نومئی کے واقعات کے بعد جب بے قصور نوجوانوں اور طالب علموں کو بلاجواز گرفتار کیا گیا، جب تھانوں اور عدالتوں کے چکر ہر اس گھر کا مقدر بنے جو کبھی سیاست سے دور تھا، تب ان مشکل گھڑیوں میں سردار دوست محمد کھوسہ ہی تھے جو ان خاندانوں کے دروازوں پر پہنچے۔ انہوں نے نہ صرف ضمانتوں کے لیے وکلا سے رابطے کیے بلکہ والدین کے دلوں پر لگے خوف کے پہاڑ کو کم کرنے کے لیے ذاتی سطح پر مدد بھی فراہم کی۔ یہی وجہ ہے کہ آج پی ٹی آئی کا ووٹر اگرچہ پارٹی لائن کے مطابق انتخابی عمل کا حصہ بننے سے ہچکچا رہا ہے، مگر دل کے کسی گوشے میں وہ اس احسان کو ضرور محسوس کرتا ہے جو سیاست سے زیادہ انسانیت کی بنیاد پر قائم ہوا تھا۔ ڈیرہ غازی خان جیسے خطے میں جہاں مشکل وقت کا ساتھ نسلوں تک یاد رکھا جاتا ہے، وہاں کھوسہ خاندان کا یہ کردار انتخابی فیصلہ سازی میں خاموش مگر گہرا اثر رکھتے ہوئے دکھائی دیتا ہے۔
دوسری طرف مسلم لیگ (ن) پوری قوت کے ساتھ میدان میں موجود ہے اور سردار محمود قادر لغاری کو جیت کا مضبوط امیدوار بنا کر پیش کر رہی ہے۔ ن لیگ کو اس وقت سب سے بڑا سیاسی سہارا وفاقی وزیر سردار اویس احمد خان لغاری کی بھرپور حمایت ہے، جن کے اثر و رسوخ اور حکومتی پس منظر نے پوری انتخابی مہم کو ایک منظم ڈھانچہ فراہم کیا ہے۔ حلقے میں ترقیاتی منصوبوں سڑکوں، گیس و بجلی کی اسکیموں، زرعی سہولتوں اور مقامی فنڈز کو بنیاد بنا کر یہ تاثر قائم کیا جا رہا ہے کہ اگر ’’ترقی کا سفر‘‘ جاری رکھنا ہے تو ن لیگ کا امیدوار ہی درست انتخاب ہے۔ پارٹی کی اعلیٰ قیادت اور مرکزی ذمہ داران کی بار بار یقین دہانیاں بھی اس بیانیے کو تقویت دے رہی ہیں کہ حلقے کو مرکز میں براہِ راست نمائندگی، ترقیاتی کاموں کی تسلسل اور انتظامی سہولتیں صرف اسی صورت مل سکتی ہیں جب مسلم لیگ (ن) کا امیدوار کامیاب ہو۔
یوں ڈیرہ غازی خان کا یہ ضمنی انتخاب محض دو سیاسی جماعتوں کا مقابلہ نہیں رہا؛ بلکہ ایک طرف پی ٹی آئی کے ووٹر کا زخمی اعتماد، اس کے دل پر رکھا گیا کھوسہ خاندان کا انسانی ہاتھ، اور دوسری طرف ن لیگ کا حکومتی اعتماد، ترقیاتی بیانیہ اور مضبوط تنظیمی ڈھانچہ آمنے سامنے ہیں۔ انتخابات کے دن عوام یہ فیصلہ کریں گے کہ وہ احسان کا قرض اتارتے ہیں، ترقی کی امید کو ترجیح دیتے ہیں یا روایتی قبائلی سیاست کی لکیروں کو برقرار رکھتے ہیں۔ لیکن ایک حقیقت واضح ہے ڈیرہ غازی خان کی سیاست اب صرف پارٹیوں کے بیانیوں پر نہیں بلکہ خوف، امید، روایت اور تعلق کے اس پیچیدہ امتزاج پر قائم ہے جو اس خطے کی پہچان بن چکا ہے۔
اگرچہ پی ٹی آئی اس نشست کا حصہ نہیں، لیکن اس کے بائیکاٹ اور عوامی غصے نے پورے علاقے کے سیاسی ماحول پر اثر ڈالا ہے۔ عمران خان وہ واحد سیاسی شخصیت ہیں جنہوں نے نوجوان طبقے کو گھر سے باہر نکال کر ووٹ کی اہمیت سمجھائی، اور یہ وہ سیاسی سرمایہ ہے جسے کوئی جماعت نظرانداز نہیں کر سکتی۔ دوسری جانب مسلم لیگ (ن) تجربہ، گورننس اور بار بار حاصل ہونے والے اقتدار کے باوجود نوجوان ووٹر کے رویے سے فکرمند ہے، جبکہ پیپلز پارٹی پنجاب میں اپنی کھوئی ہوئی بنیادیں تلاش کرنے کی کوشش میں ہے۔
ڈیرہ غازی خان کا ضمنی انتخاب اس حقیقت کو بھی آشکار کر رہا ہے کہ جنوبی پنجاب کی سیاست اقتداری فیصلوں، بیانیاتی اثر اور انتخابات کی روایات سے کہیں زیادہ قومی، قبائلی اور ذاتی وفاداریوں کا کھیل ہے۔ نتیجہ جو بھی آئے، یہ انتخاب ثابت کرے گا کہ یہاں ابھی تک پارٹی سے زیادہ سردار بڑے ہیں، بیانیے سے زیادہ برادری بڑی ہے، اور نعرے سے زیادہ قبیلہ جیتتا ہے۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی حقیقت ہے کہ مستقبل قریب میں پنجاب کی سیاست کا رخ وہی جماعت طے کرے گی جو نوجوانوں کی نبض سمجھے اور عوامی رائے کو طاقت کے بجائے سیاسی حکمت سے جیت سکے۔
یہ ضمنی انتخاب ڈیرہ غازی خان کے سیاسی کردار، مقامی طاقت کے مراکز، اور جماعتی حکمت عملی کا ایک اہم امتحان ہے۔ 23 نومبر کو آنے والا فیصلہ نہ صرف ایک نشست بلکہ آنے والے سیاسی موسم کی سمت کا تعین کرے گا۔ پاکستان کی بدلتی ہوئی سیاست میں اس وقت سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کس کے پاس زیادہ ووٹر ہیں نہیں بلکہ کس کے ساتھ مستقبل کھڑا ہے

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار