ڈائریکٹر سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان صباحت حسین نے کہا ہے کہ موجودہ شدید گرمی کی لہر کپاس کی فصل کے لیے انتہائی حساس مرحلہ ہے، خاص طور پر وہ اگیتی کپاس جو اس وقت پھول اور گڈی کے مرحلے میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ محکمہ موسمیات کے مطابق سندھ اور پنجاب کے بعض علاقوں میں درجہ حرارت 46 سے 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا سکتا ہے، جو کپاس کی پیداوار پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ اس صورتحال میں کاشتکاروں کو فوری احتیاطی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

ان کے مطابق اس نازک مرحلے پر فصل کو گرمی کے دباؤ (اسٹریس) سے بچانا ضروری ہے۔ اس کے لیے ہلکی آبپاشی چار سے پانچ دن کے وقفے سے کی جائے اور پانی کا استعمال صبح یا شام کے ٹھنڈے اوقات میں کیا جائے تاکہ نقصان کم ہو۔

انہوں نے کہا کہ فصل میں پوٹاشیم، میگنیشیم، زنک، کاپر اور بوران جیسے غذائی اجزا مناسب مقدار میں استعمال کیے جائیں تاکہ پھول اور گڈی کی نشوونما بہتر ہو سکے۔ اس کے علاوہ امینو ایسڈز کے سپرے سے پودے گرمی کے دباؤ کو بہتر طور پر برداشت کر سکتے ہیں۔

ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ تمام سپرے شام کے وقت کیے جائیں اور کاشتکار اپنی فصل کی مسلسل نگرانی کریں تاکہ بروقت اقدامات کے ذریعے پیداوار کو محفوظ بنایا جا سکے۔

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار