تحریر : نعمان حفیظ 
پاکستان اس وقت ایک ایسے نازک آئینی موڑ پر کھڑا ہے جہاں کیے جانے والے فیصلوں کے اثرات صرف عدالتوں کی چار دیواری تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ آنے والی دہائیوں میں ریاستی ڈھانچے، ادارہ جاتی توازن، جمہوریت کی بقا اور ملکی سلامتی تک پھیلیں گے۔ سپریم کورٹ کے دو سینئر ججوں، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ کے استعفے محض دو شخصیات کے ذاتی فیصلے نہیں بلکہ آئین کی روح، عدلیہ کی آزادی اور ریاستی اختیارات کی تقسیم کے بارے میں گہری تشویش کا اظہار ہیں۔
 جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے استعفے میں لکھا کہ نئے عدالتی ڈھانچے کی بنیادیں ’’آئین کے مزار پر کھڑی‘‘ ہیں اور جو عدالتی چوغہ وہ پہنتے تھے وہ محض لباس نہیں بلکہ قوم کی طرف سے دیا گیا ایک مقدس اعتماد تھا۔ یہ الفاظ انصاف کے اُس بڑے سوال کی طرف اشارہ کرتے ہیں جسے اب محض قانونی بحث کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
27ویں آئینی ترمیم کے تحت وفاقی آئینی عدالت کا قیام بظاہر عدالتی بوجھ کم کرنے، آئینی نوعیت کے مقدمات کو تیزی سے نمٹانے اور سپریم کورٹ کو عمومی اپیلوں اور دیگر معاملات کے لیے فارغ کرنے کی ایک کوشش کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، لیکن مستعفی ہونے والے ججز اور متعدد آئینی ماہرین کے مطابق اس ترمیم کے ذریعے اعلیٰ عدلیہ کے بنیادی ڈھانچے، سپریم کورٹ کے کردار اور اس کے اختیارات میں ایسی تبدیلی کی گئی ہے جس سے طاقت کا توازن بگڑنے کا واضح خطرہ ہے۔
 جسٹس امین الدین خان کو وفاقی آئینی عدالت کا پہلا چیف جسٹس مقرر کر دیا گیا ہے، عدالت کو ازخود نوٹس لینے اور آئینی سوالات سننے کا اختیار بھی حاصل ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ اختیارات سپریم کورٹ کے تاریخی اور آئینی مقام کو کمزور کیے بغیر استعمال ہو سکیں گے یا نہیں؟

حکومت اور اس کے حامی قانونی حلقے یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ سپریم کورٹ میں گزشتہ کئی برسوں سے سیاسی نوعیت کے مقدمات نے عام شہریوں کے کیسز کو پیچھے دھکیل دیا تھا، زیرِ التوا مقدمات کی تعداد بڑھتی جا رہی تھی اور آئینی تشریح کے نام پر بعض فیصلوں نے اداروں کے درمیان تناؤ میں اضافہ کیا۔ ان کے نزدیک آئینی عدالت کا قیام ایک طرح کی اصلاح ہے، جس کے نتیجے میں سپریم کورٹ عمومی نوعیت کے مقدمات اور اپیلوں پر زیادہ توجہ دے سکے گی اور آئینی نوعیت کے پیچیدہ سوالات مخصوص عدالت میں جائیں گے۔ 
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے بعض عہدیداروں نے بھی یہ مؤقف اختیار کیا کہ ایک الگ آئینی عدالت کا مطالبہ صرف سیاسی جماعتوں کا نہیں بلکہ وکلا کے ایک حلقے کا بھی تھا، تاکہ سیاسی مقدمات کے بوجھ سے عدالتی نظام کو کسی حد تک نجات مل سکے اور عام آدمی کو جلد انصاف میسر آ سکے۔
لیکن تصویر کا دوسرا رخ کچھ اور کہانی سناتا ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے استعفوں میں واضح کیا کہ ان کے نزدیک 27ویں آئینی ترمیم نے عدلیہ کو حکومت کے ماتحت کر دیا ہے، سپریم کورٹ کو ٹکڑوں میں بانٹ دیا گیا ہے اور آئینی جمہوریت کی روح پر کاری ضرب لگائی گئی ہے۔
 ان کے خیال میں اعلیٰ عدلیہ کے اختیارات کو نئے ڈھانچے میں اس انداز سے تقسیم کیا گیا کہ سپریم کورٹ عملاً ملک کی ’’سب سے بڑی عدالت‘‘ نہیں رہی بلکہ ایک عام عدالت کی سطح پر لائی جا رہی ہے۔ سابق جج جسٹس ریٹائرڈ فیصل عرب نے بھی اسی نوعیت کی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ آئینی ترمیم کے بعد سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار کو جس حد تک محدود کیا گیا ہے، وہ بنیادی آئینی ڈھانچے میں مداخلت کے مترادف محسوس ہوتا ہے، اور دنیا کی دیگر جمہوریتوں میں جب ایسی کوشش ہوتی ہے تو اسے عدلیہ روکنے کی کوشش کرتی ہے، نہ کہ اس کا حصہ بنتی ہے۔
وکلا برادری، جو ہمیشہ عدلیہ کی آزادی کے حوالے سے پیش پیش رہی ہے، اس معاملے پر خود بھی تقسیم دکھائی دیتی ہے۔ ایک جانب وہ حلقہ ہے جو آئینی عدالت کو وقت کی ضرورت اور عدالتی اصلاحات کی سمت ایک مثبت قدم قرار دیتا ہے، جبکہ دوسری جانب بار ایسوسی ایشنز اور سینئر قانون دانوں کا ایک مضبوط طبقہ اسے آئین کے بنیادی ڈھانچے اور عدلیہ کی خودمختاری کے خلاف براہِ راست حملہ قرار دے رہا ہے۔
 کچھ وکلا کے مطابق اس ترمیم سے سپریم کورٹ کا کردار علامتی رہ جائے گا اور آئینی تشریح کا اصل اختیار کسی نئی وفاقی عدالت کے پاس ہوگا، جس کے ججز کی تقرری اور اُس پر اثر انداز ہونے کے امکانات زیادہ ہوں گے۔ اس خدشے کو مزید تقویت اس بات سے ملتی ہے کہ اگر خود اسی آئینی عدالت کے قیام کے خلاف کوئی درخواست آئے گی تو پھر وہی عدالت اس پر سماعت کرے گی اور سوال یہ پیدا ہوگا کہ جو عدالتی ڈھانچہ خود اپنے وجود کی آئینی حیثیت کے حوالے سے فریق ہے، کیا وہ واقعی غیر جانب دارانہ فیصلہ دے سکے گا؟
ریاستی سلامتی اور آئینی خودمختاری کے تناظر میں اس بحث کو محض ’’ججوں کا اختلاف‘‘ کہہ کر ایک طرف نہیں رکھا جا سکتا۔ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں ماضی میں آئین توڑنے، ماورائے آئین اقدامات اور ایمرجنسی ادوار کی تاریخ موجود ہو، وہاں سپریم کورٹ کی کمزوری یا اس کے اختیارات میں ابہام پورے ریاستی نظام کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
 اگر اعلیٰ عدلیہ کا کردار کمزور ہوا تو پھر پارلیمان کی قانون سازی کو آئینی معیار پر پرکھنے والا کون ہوگا؟ اگر حکومت، ریاستی اداروں یا طاقت ور حلقوں کے فیصلوں سے بنیادی حقوق مجروح ہوں تو ان کے خلاف مؤثر فورم کون سا رہے گا؟ اور اگر عوام کی نظر میں سپریم کورٹ کا وقار اور حیثیت کمزور پڑ گئی تو انصاف پر اعتماد کہاں کھڑا ہوگا؟ یہ سوال صرف عدلیہ تک محدود نہیں بلکہ قومی سلامتی کے اس وسیع مفہوم سے جڑے ہیں جس میں آئینی امتیاز، ادارہ جاتی توازن اور شہری حقوق سب شامل ہیں۔
حکومت کی جانب سے یہ مؤقف سامنے آیا کہ مستعفی ہونے والے ججز سیاسی ایجنڈا رکھتے تھے، ان کے استعفوں کی تحریر سیاسی رنگ سے بھرپور ہے اور وہ پارلیمان کی بالادستی کے خلاف ہیں۔ لیکن دوسری جانب سینیئر قانون دان، سابق ججز، بار ایسوسی ایشنز اور سول سوسائٹی کے ایک بڑے حلقے نے ان استعفوں کو ضمیر کی آواز اور آئینی وفاداری کی علامت قرار دیا ہے۔
 جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے استعفے میں احمد فراز کے اشعار لکھ کر یہ پیغام دیا کہ ظلم اور ناانصافی کے حصار ایک دن ضرور ٹوٹیں گے، جبکہ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ جس آئین کے تحفظ کا حلف انہوں نے اٹھایا تھا، انہیں یقین ہو گیا ہے کہ وہ آئین اب اپنی اصل صورت میں باقی نہیں رہا۔ یہ الفاظ محض ادبی سطر نہیں بلکہ تاریخی ریکارڈ پر محفوظ گواہی ہیں کہ اعلیٰ عدلیہ کے اندر بھی ایسے ججز موجود تھے جنہوں نے آئین پر سمجھوتہ کرنے کے بجائے منصب سے دستبرداری کو ترجیح دی۔
ملکی سلامتی کے تناظر میں دیکھا جائے تو آئین کی بالادستی، عدلیہ کی آزادی اور آئینی اداروں کے درمیان توازن وہ بنیادی شرائط ہیں جن کے بغیر نہ تو ریاست مضبوط ہو سکتی ہے اور نہ ہی جمہوری نظام مستحکم ہو سکتا ہے۔
 اگر آئینی عدالت کا قیام واقعی اصلاح کے لیے ہے تو پھر اسے وسیع ترین مشاورت، اتفاقِ رائے، شفاف تقرریوں، واضح قوانین اور عدلیہ کے اندر سے بھی قبولیت کے ساتھ آگے بڑھایا جانا چاہیے تھا۔ لیکن اگر یہ تاثر گہرا ہوتا گیا کہ یہ ڈھانچہ سپریم کورٹ کے اختیارات سلب کر کے ایک ایسا نظام قائم کر رہا ہے جو حکومت یا مخصوص قوتوں کے زیرِ اثر ہو سکتا ہے، تو پھر یہ قدم نہ صرف عدلیہ کی آزادی بلکہ ریاستی استحکام کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی ثابت ہوگا۔
اب ضرورت اس بات کی ہے کہ پارلیمان، عدلیہ، وکلا برادری اور سول سوسائٹی مل کر اس بحران کو ایک سنجیدہ قومی مکالمے میں تبدیل کریں۔ آئینی ترمیمات کسی بھی جمہوری نظام میں ناممکن نہیں، لیکن ایسی ہر ترمیم ’’آئین کی روح‘‘، بنیادی ڈھانچے اور ادارہ جاتی توازن سے ہم آہنگ ہونی چاہیے۔ اعلیٰ عدالتوں کے دائرہ اختیار میں تہہ در تہہ تبدیلیاں محض عددی اکثریت سے نہیں، بلکہ آئینی اتفاقِ رائے، شفافیت اور عوامی اعتماد سے ہی جواز حاصل کرتی ہیں۔
 اگر سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے درمیان اختیارات کی تقسیم واضح، منصفانہ، شفاف اور آئینی حدود کے مطابق نہ رہی تو یہ ابہام مستقبل میں سیاسی عدم استحکام، ادارہ جاتی ٹکراؤ اور عوام کے اعتماد کے بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے، جو کسی بھی طور پر ملکی سلامتی کے موافق نہیں۔
آخر میں یہ حقیقت نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ آئین کسی جماعت، حکومت یا ادارے کی ملکیت نہیں بلکہ پورے پاکستان کی مشترکہ امانت ہے۔ عدلیہ کے وہ جج جو اس امانت کے تحفظ کے لیے عہدوں اور مناصب سے دستبردار ہوئے، ان کے اقدام سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن اسے محض سیاسی رنگ دے کر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ 
اگر ہم واقعی چاہتے ہیں کہ پاکستان ایک مضبوط، مستحکم اور آئینی ریاست کے طور پر دنیا کے نقشے پر کھڑا رہے تو ہمیں آئین کی بالادستی، عدلیہ کی آزادی اور اداروں کی خودمختاری کو ہر سیاسی مفاد سے بالاتر رکھنا ہوگا۔ ملکی سلامتی اور آئینی تحفظ کی اصل ضمانت یہی ہے کہ جس آئین پر ہم نے وفاداری کا حلف اٹھایا ہے، وہ صرف کتاب میں نہیں، عملاً نظامِ حکومت اور نظامِ عدل کا مرکز بن کر زندہ رہے۔
 

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار