انتخاب۔ تابندہ کنیز زہراء

مدّت سی ہو گئی ہے، تجھ کو مناتے ہوئے  
اب تو تھک چکی ہوں، آنکھیں بھیگ جاتی ہیں رو رو کے

چھوڑ اپنی ضد کو، چل یہاں سے اب  
میں نے ہاتھ بڑھایا ہے، تو تھام لے خلوص سے

اور کتنا درد دے گا تُو خود کو، میرے پیار  
زخم تو دکھا، مرہم میں لگا دوں گی پیار سے

میں چھوڑ کے کہیں جا نہیں سکتی تجھے  
بس مضبوطی سے پکڑ لے، چاہے خود سے باندھ لے

آسان نہیں ہے تیری غلطی کو بھلانا  
لیکن اگر میں بول رہی ہوں، تو تُو بھی بھولا دے

جرم چاہے جتنا بھی گہرا ہو  
سزا کا نہیں، معافی کا حقدار ہوتا ہے کوئی اپنا

میں معاف کر رہی ہوں، اتنا تو دیکھ لے  
آخری بار، محبت سے، دل سے، پوچھ رہی ہوں

اب تُجھے لوٹ آنا ہے...  
یا پھر میں چلی جاؤں، ہمیشہ کے لیے

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار