معاشرے میں نظرانداز ہونے والے بچے ، وہ درد جو ہم نے معمول بنا لیا ہے
تحریر : جنید ملک
اگر آپ ملتان کے کسی چوک پر چند منٹ کھڑے رہیں تو یونیفارم میں اسکول جاتے بچوں سے زیادہ آپ کو وہ بچے دکھائی دیں گے جن کے ہاتھ میں کھیلنے کے کھلونے نہیں، بلکہ بھیک کا پیالہ، گاڑی کا شیشہ صاف کرنے والا کپڑا، یا ورکشاپ کے چکنائی بھرے اوزار ہوتے ہیں۔ یہ وہ نسل ہے جس کے خوابوں کو مہنگائی، غربت، ریاستی بے حسی اور سماجی کمزوری نے چھین لیا ہے۔ ان بچوں کی معصوم آنکھوں میں وہ سوال ہیں جو ہم میں سے کوئی سننا ہی نہیں چاہتا۔ ہم نے بھیک مانگتے، کام کرتے، دوڑتے، پٹتے، روتے بچوں کو اپنی معاشرتی تصویر کا لازمی حصہ سمجھ لیا ہے—اور یہی وہ مقام ہے جہاں ہمارا اخلاقی زوال سب سے بڑا جرم بن کر سامنے آتا ہے۔ مہنگائی اور بے روزگاری نے والدین کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے کہ وہ بچوں کی تعلیم، صحت اور بہتر مستقبل کے بجائے ان سے گھر کا خرچ پورا کرنے کی امید لگانے لگے ہیں۔ سماجی ناہمواری، ریاستی بے حسی اور معاشرتی کمزوریاں اس بحران کو مزید گہرا کر رہی ہیں۔ یہ مسئلہ محض چند خاندانوں کی مجبوری نہیں بلکہ ایک پوری نسل کی محرومی ہے جسے ہم اپنی آنکھوں کے سامنے پستی میں دھکیل رہے ہیں۔
8 سالہ حمزہ روزانہ سڑک پر گاڑیوں کے شیشے صاف کرتا ہے۔ اس کی آواز میں وہ تھکن ہے جو کسی بچے کی آواز نہیں ہونی چاہیے۔ وہ بتاتا ہے:
"ابا کہتے ہیں شیشے صاف کرو، گھر میں کھانا آئے گا۔ کبھی لوگ ڈانٹ دیتے ہیں۔ کبھی پیسے نہیں دیتے۔ میں سوچتا ہوں اسکول کیسا ہوتا ہوگا..."
یہ جملے صرف چند الفاظ نہیں، پورے نظام پر ایک فرد جرم ہیں۔
بچوں سے محنت مزدوری کا کام لینا دو لحاظ سے زیادتی اور ظلم تصور ہوتا ہے۔ ایک اس لیے کہ یہ عمر تعلیم حاصل کرنے یا کوئی ہنر سیکھنے کی ہوتی ہے اور بچے اس سے محروم ہو جاتے ہیں۔ دوسرا اس وجہ سے کہ اس عمر میں ان پر محنت و مشقت کا بوجھ ڈالنا اور انہیں مسلسل جسمانی مشقت میں مصروف رکھنا سراسر زیادتی ہے۔ انہیں جائز تفریح کے مواقع نہیں ملتے جو ان کی ذہنی نشوونما کے لیے ضروری ہے، اس طرح تعلیم و تربیت سے محرومی کے ساتھ ساتھ ان پر ذہنی اور جسمانی نشوونما کے دروازے بھی بند ہو جاتے ہیں۔
ہمارے ہاں بچوں سے کام لینے کا رواج عام ہے۔ اس میں ایک تو وہ رضاکارانہ کام اور خدمت ہے جو ماں باپ اپنی اولاد سے اور اساتذہ اپنے شاگردوں سے لیتے ہیں۔ یہ کام تربیت ہی کا حصہ ہوتا ہے اور اسلام ماں باپ اور اساتذہ کے اس حق کو تسلیم کرتا ہے بشرطیکہ وہ تربیت اور شفقت کے دائرہ میں ہو۔ جناب نبی اکرم صلوسلم عل جب مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو انصار مدینہ کے ہر خاندان نے اپنی بساط کے مطابق آپؐ کی خدمت و معاونت کی ہر ممکن کوشش کی۔ ایک انصاریہ خاتون آنحضرتؐ کی خدمت میں اپنے دس سالہ بچے کو لے کر آگئیں کہ میرے پاس اور کچھ نہیں ہے اس لیے اپنے اس بچے کو آپ کی خدمت کے لیے وقف کرتی ہوں۔ یہ حضرت انس بن مالکؓ تھے جنہوں نے دس سال تک رسول اللہؐ کے ذاتی خادم کے طور پر ان کے ساتھ وقت گزارا۔ اور ان کا شمار حدیث رسولؐ کے تین چار بڑے راویوں میں ہوتا ہے۔
دوسرا کام جبری ہے جو بچوں سے محنت مزدوری کرا کے ان کی کمائی حاصل کرنے کے لیے لیا جاتا ہے، یہ بہرحال مذکورہ بالا وجوہات کی بنا پر محل نظر ہے۔ اسلام کا اصول یہ ہے کہ جو کام کسی جائز حق کے حصول میں رکاوٹ بنتا ہو وہ ممانعت کے زمرے میں شامل ہو جاتا ہے۔ ہمارے ہاں بچوں سے جبری مشقت لینے کا رجحان موجود ہے اور کارخانوں، دکانوں، ہوٹلوں اور کام کاج کے دیگر مراکز میں آپ کو بچوں کی ایک بڑی تعداد دکھائی دے گی۔ یہ بچے معصوم ہاتھوں سے محنت مزدوری کر کے اپنی کمائی ماں باپ اور دیگر اہل خاندان کو کھلاتے ہیں۔
10 سالہ ثناء جو چوک پر ہاتھ پھیلا کر بھیک مانگتی ہے، دھیمی آواز میں کہتی ہے:
"امی بیمار ہیں… میں نہ مانگوں تو گھر میں کچھ نہیں بنتا۔ رات کو میرے پاؤں درد کرتے ہیں۔ میں بس چاہتی ہوں کہ کبھی کسی دن مجھے بھی یونیفارم مل جائے۔"
12 سالہ علی شان ورکشاپ میں دن بھر دھواں اور چنگاریاں برداشت کرتے ہوئے کہتا ہے:
"مجھے پڑھنا تھا… ابھی بھی دل کرتا ہے، لیکن اب شاید دیر ہو گئی ہے۔"
والدین کی آوازیں: مجبوری، شرمندگی اور معاشرتی تلخی
مسئلہ ہمیشہ والدین کا نہیں ہوتا۔ ان کی مجبوریاں بھی دل چیر دیتی ہیں۔
ریڑھی بان محمد اسلم کا چہرہ اپنی غربت کا بار خود اٹھائے ٹوٹا ہوا ہے:
"حمزہ کو سڑک پر اتارنا میرے لیے مرنے جیسا تھا، لیکن گھر میں آٹا نہیں تھا۔ میں چاہتا ہوں میرا بیٹا اسکول جائے، مگر میں کیا کروں؟"
صفائی کرنے والی پروین آرا کی کہانی دل دہلا دیتی ہے:
"میں چاہتی ہوں بچیاں پڑھیں، لیکن محلے والے کہتے ہیں کام کرواؤ ورنہ گھر کیسے چلے گا؟ غربت نے میرے بچوں کا مستقبل کھا لیا ہے۔"
یہ والدین مجرم نہیں—ریاستی کمزوری اور معاشرتی بے حسی کے شکار ہیں۔
آئی۔ایل۔او کے مطابق چائلڈ لیبر وہ کام ہے جس سے بچے اپنے بچپن کی امنگوں ، باعزت و پروقار طرززندگی سے محروم ہو جائیں اور جو انکی جسمانی، ذہنی اور اخلاقی نشوونما کیلیئے نقصان دہ ہو اور جس سے انکی لازمی تعلیم میں حرج ہو۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم چائلڈ لیبر اور چائلڈ ورک میں فرق کیسے کریں ؟ آئی۔ایل۔او کے مطابق اسکا تعین بچے کی عمر، کام کی نوعیت، اوقات اور حالات کار اور ممالک کی ڈویلپمنٹ سٹیج کو سامنے رکھ کر کیا جانا چاہیئے۔ (http://www.ilo.org/ipec/facts/lang--en/)
یونیسیف کے مطابق چائلڈ لیبر دراصل وہ کام ہے جو بچے کییلیئے بلحاظ عمر اور کام کی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے کم از کم متعین اوقات سے زیادہ ہو۔ (http://www.unicef.org/protection/index_childlabour.html)
پاکستان میں بچوں سے ملازمت یعنی چائلڈ لیبر کی ممانعت سے متعلق قوانین موجود ہیں
آئین کے آرٹیکل 3 کے تحت مملکت، استحصال کی تمام اقسام کے خاتمہ اور اس بنیادی اصول کی تدریجی تکمیل کو یقینی بنائے گی کہ ہر کسی سے اسکی اہلیت کے مطابق کام لیا جائے گا اور ہر کسی کو اسکے کام کے مطابق معاوضہ دیا جائے گا۔
آئین کے آرٹیکل 11 کے تحت چودہ سال سے کم عمر بچے کو کسی کارخانے یا کان یا دیگر پرخطر ملازمت میں نہیں رکھا جائے گا۔
آئین کے آرٹیکل25 اے کے تحت ریاست تمام پانچ سال کی عمر سے لیکر سولہ سال کی عمر کے بچوں کیلیئے لازمی اور مفت تعلیم دینے کا انتظام کرے گی جسکا تعین قانون کر ے گا۔
آئین کے آرٹیکل 37کے تحت ریاست منصفانہ اور نرم شرائط کار، اس امر کی ضمانت دیتے ہوئے کہ بچوں اور عورتوں سے ایسے پیشوں میں کام نہ لیا جائے گا جو انکی عمر یا جنس کیلیئے نا مناسب ہوں، مقرر کرنے اور ملازم عورتوں کیلیئے زچگی سے متعلق مراعات دینے کیلیئے احکام وضع کرے گی۔
:نیچے دیئے گئے قوانین خصوصی طور پر چائلڈ لیبر سے متعلق ہیں
ایمپلائمنٹ آف چلڈرن ایکٹ 1991
ایمپلائمنٹ آف چلڈرن رولز1995
انکے علاوہ دیگر قوانین بھی ہیں جو بچوں کی ملازمت سے متعلق ہیں اور کام کرنے والے بچوں کے حالات کار کو ضابطے میں لاتے ہیں۔
مائنز ایکٹ1923
چلڈرن (پلیجنگ آف لیبر) ایکٹ1933
فیکٹریز ایکٹ1934
روڈ ٹرانسپورٹ ورکرز آرڈیننس1961
شاپس اینڈ اسٹیبلشمنٹس آرڈیننس1969
مرچنٹ شپنگ آرڈیننس2001
ایمپلائمنٹ آف چلڈرن ایکٹ کے تحت بچے سے مراد وہ شخص ہے جسکی عمر چودہ سال سے کم ہو جبکہ نوبالغ وہ ہے جسکی عمر چودہ سال سے زیادہ لیکن اٹھارہ سال سے کم ہو۔ جیسے اوپر ذکر کیا گیا کہ آئین میں بھی کم از کم عمر کی حد چودہ سال ہے لیکن اٹھارویں ترمیم نے دراصل کم از کم عمر کی حد چودہ سال سے بڑھا کر سولہ سال کر دی ہے کیونکہ اب آئین کی پچیسویں شق کے مطابق ریاست کییلیئے ضروری ہے کہ وہ پانچ سے سولہ سال کی عمر کے بچوں کیلیئے لازمی اور مفت تعلیم کا انتظام کرے جس سے یہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ ایک بچے سے سولہ سال کی عمر سے پہلے ہر وہ کام جو چائلڈ لیبر کے زمرے میں آتا ہو کام نہیں کروایا جا سکتا۔
ملتان اور جنوبی پنجاب میں بھیک مانگنے والے بچوں کی تعداد خوفناک انداز میں بڑھ رہی ہے۔ بازاروں کے چوکوں پر ہر طرف ننھے ہاتھ پھیلے نظر آتے ہیں جو گاڑیوں کی کھڑکیوں پر دستک دیتے ہیں یا گزرنے والوں کے قدموں میں التجا کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ گداگری مافیا، غربت اور خاندانی دباؤ نے ہزاروں بچوں کو بھیک کو بطور مجبوری اپنانے پر مجبور کر دیا ہے۔ یہ بچے صبح سویرے گھروں سے نکلتے ہیں اور رات تک دھوپ، بارش اور گرد آلود ماحول میں گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ بعض اوقات انہیں روزانہ کی مخصوص "ٹارگٹ" رقم پوری نہ کرنے پر تشدد کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ یہ صورتحال بتاتی ہے کہ ہمارے معاشرتی انتظام میں نہ صرف کمزوریاں ہیں بلکہ وہ مکمل طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکا ہے، جس کا سب سے زیادہ نقصان ہمارے بچوں کو پہنچ رہا ہے۔
والدین کی مجبوریاں بھی کم کرب ناک نہیں۔ وہ لوگ جو ایک وقت کی روٹی پوری نہیں کر پاتے، اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے کا سوچ بھی کیسے سکتے ہیں؟ غربت کا دباؤ اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ بعض والدین بچوں کو مزدوری پر لگا کر اپنے ضمیر کو تسلی دیتے ہیں کہ کم از کم بچے بھوک سے تو نہیں مریں گے۔ لیکن اس سوچ کے پیچھے اصل ذمہ دار ریاست کی وہ ناکامیاں ہیں جنہوں نے بنیادی سہولتیں اور معاشی استحکام لوگوں تک پہنچانے کی کوشش ہی نہیں کی۔ والدین پر الزام لگانے سے پہلے ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ ریاست نے روزگار، تعلیم اور صحت کے وعدوں کو محض دعوؤں تک کیوں محدود رکھا ہوا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں والدین کی مجبوری اور ریاستی عدم توجہی کی حقیقت ایک دوسرے میں گڈمڈ ہو جاتی ہے۔
اگر قوانین کا ذکر کریں تو یہ قوانین صرف فائلوں میں زندہ ہیں، سڑکوں پر نہیں۔ گداگری اور چائلڈ لیبر کے خلاف حکومتی آپریشن چند دن دکھائی دیتے ہیں، پھر خاموشی چھا جاتی ہے اور وہی منظر دوبارہ چوکوں میں نظر آنے لگتا ہے۔ پولیس، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ ادارے اپنی کارروائی کی تصاویر تو اخبارات میں نمایاں طور پر دکھاتے ہیں، مگر ان بچوں کی زندگیوں میں حقیقی تبدیلی کی جانب کوئی پیش رفت نہیں ہوتی۔ یہ وہ واضح ثبوت ہے کہ ریاست کاغذی کام میں بہت توانا ہے، مگر زمینی سطح پر عملی اقدامات میں بہت کمزور ہے۔
اس صورتحال میں چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو ملتان امید کی ایک روشن کرن ہے۔ چائلڈ پروٹیکشن بیورو ملتان کے ڈسٹرکٹ انچارج شفاعت ظفر نے اپنی گفتگو میں بتایا کہ چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو ملتان کا قیام مارچ 2007 میں عمل میں آیا اپنے قیام سے اب تک ادارہ 12000 سے زائد بچوں کو حفاظتی تحویل میں لے چکا ہے بچوں کو شہر کے مختلف مقامات سے دوران ریسکیو آپریشن اور بذریعہ چائلڈ ہیلپ لائن 1121 کال جنوبی پنجاب کے مختلف اضلاع ریسکیو کیا گیا حفاظتی تحویل میں لئے گئے بچوں میں گھر سے بھاگے گمشدہ بے آسرا بھکاری لاوارث نومولود جنسی و جسمانی تشدد کا شکار اور دیگر بچے شامل تھے
مزید یہ کہ مارچ 2007 سے اب تک 11990 بچوں کو لواحقین کی تلاش کے بعد ان کے حوالے کیا گیا اگر ہم چائلڈ پروٹیکشن بیورو ملتان کی رواں سال کی کارکردگی کا جائزہ لیں تو ادارے کی جانب سے رواں سال 2025 میں اب تک 421 بچوں کو حفاظتی تحویل میں لیا جبکہ 392 بچوں کو ورثاء کے حوالے کیا گیا 8 لاوارث نومولود بچوں کو بھی ریسکیو کیا گیا بھکاری مافیا کے خلاف اور بچوں سے زیادتی اور تشدر کے حوالے سے 29 ایف آئی آر بھی درج کروائی گئی ہیں
راؤ نوید مختار (ترجمان چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر، ملتان) نے بتایا کہ اس وقت 90 سے زائد لاوارث بے آسرا بچے رہائش پذیر ہیں چئیر پرسن چائلڈ پروٹیکشن بیورو پنجاب سارہ احمد کی خصوصی ہدایت اور ان کے وژن کے مطابق چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں رہائش پذیر لاوارث بے آسرا بچوں کو ضروریات زندگی کی تمام بنیادی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں بچوں کو رسمی تعلیم دینی تعلیم ہوسٹل میں معیاری رہائش سپیشل مینیو کے ساتھ معیاری کھانا صحت کے حوالے سے طبی سہولیات کی فراہمی نفسیاتی کونسلنگ کھیل کے مواقع اور دیگر غیر نصابی سرگرمیاں بھی کروائی جاتی ہیں اس کے علاوہ ادارے میں رہائش پذیر لاوارث بے آسرا بچوں کے لئے مطالعہ کے لئے کتابوں کی لائبریری دور جدید کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے بچوں کو آئی ٹی کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے کمپیوٹر لیب کا بھی بندوبست کیا گیا ہے
راؤ نے مزید تفصیلات سے آگاہ کیا کہ ادارے میں رہائش پذیر بچوں کو ہنر مند بنانے کے لئے ٹیکنیکل ٹریننگ بھی دی جارہی ہیں بچوں کے لئے ٹیلرنگ کلاس کا اہتمام کیا گیا ہے اس کے ساتھ ساتھ بچوں کے لئے سلائی کڑھائی اور نقشہ دبکی کام کے حوالے سے بھی ٹیکنیکل کلاسز کا اہتمام کیا گیا ہے جس کا مقصد بچوں کو ہنر مند بنانا ہے تاکہ یہ لاوارث بے آسرا بچے بھی بہتر روز گار حاصل کر سکیں اور معاشرے میں اپنا ایک تعمیری اور مفید کردار ادا کر سکیں چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی 1121 چائلڈ ہیلپ لائن 24 گھنٹے کام کرتی ہے ہیلپ لائن 1121 پر کسی بھی لاوارث بے آسرا گمشدہ اور دیگر حوالے سے کوئی بھی کال موصول ہونے پر فوری رسپانس دیا جاتا ہے اور بچے کو ریسکیو کر کے چائلڈ پروٹیکشن بیورو سنٹر منتقل کیا جاتا ہے چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی جانب سے 15 سال تک کی عمر کے بچوں کو حفاظتی تحویل میں لیا جاتا ہے حکومت پنجاب کی جانب سے چائلڈ پروٹیکشن بیورو کو بچوں کی فلاح و بہبود کیلئے وافر مقدار میں فنڈز مہیا کئے جارہے ہیں تاکہ ان لاوارث بے آسرا بچوں کی بہتر تعلیم و تربیت اور فلاح و بہبود ہو سکے بچوں کے تحفظ حقوق انسدادِ گداگری چائلڈ ٹریفکنگ کی روک تھام اور تشدد کی روک تھام کے حوالے سے چائلڈ پروٹیکشن بیورو اپنا ایک موثر کردار ادا کر رہا ہے اس ضمن میں سیمنارز آگاہی واک اور جامع آگاہی مہم پروگرامز ترتیب دئیے جاتے ہیں تاکہ عوام الناس میں بچوں کے تحفظ حقوق کے حوالے سے شعور اجاگر کیا جا سکے ۔
ادارے میں موجود چائلڈ سائکولوجسٹ لیزا تبسم حفاظتی تحویل میں لئے گئے بچوں جس میں بھکاری گھر سے بھاگے اور دیگر بچوں کی ذہنی اور نفسیاتی کونسلنگ کرتی ہیں بچوں کی ذہنی اور نفسیاتی کے دوران مختلف طریقوں کو استعمال کیا جاتا ہے بچوں کو مختلف گیمز کے ذریعے اور مختلف دیگر غیر نصابی سرگرمیوں میں ملوث کیا جاتا ہے اور ان کی نفسیاتی کونسلنگ کی جاتی ہے تاکہ یہ بچے دوبارہ اپنے گھر جا کر بھیک وغیرہ نا مانگیں اور گھروں سے نا بھاگیں اور ایک مفید شہری بن سکیں
معاشرے کا ردعمل بھی انتہائی مایوس کن ہے۔ بھیک مانگتا بچہ آج ہمیں عجیب نہیں لگتا۔ ہم اسے دیکھ کر نظریں چرا لیتے ہیں یا چند سکے دے کر اپنی ذمہ داری پوری سمجھتے ہیں۔ ہم بچوں کے ہاتھ پھیلانے کے مناظر کو اتنا معمول سمجھ چکے ہیں کہ اب ہمیں یہ تکلیف نہیں دیتا کہ ایک چھ سالہ بچہ بھیک مانگ رہا ہے جبکہ اس کی جگہ اسکول میں کتابیں کھل رہی ہونی چاہیے تھیں۔ یہ رویہ ہمارے سماج کے اخلاقی زوال کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ہم اجتماعی طور پر اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہو چکے ہیں۔
ماہرسماجیات پروفیسرڈاکٹرامین الدین (ریٹائرڈ ) سے گفتگو نے واضح کر دیا کہ یہ مسئلہ صرف آج کا نہیں بلکہ آنے والے کل کا ایک شدید المیہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر آج ہم نے بچوں کی بھیک، مزدوری اور محرومی کے مسئلے کو سنجیدگی سے نہ لیا تو آئندہ نسلیں ذہنی، معاشی اور سماجی بیماریوں کا شکار ہوں گی۔ بحران صرف غربت کا نہیں بلکہ ریاستی ناکامی کا نتیجہ ہے۔ ہمارے ملک میں تعلیم ابھی تک حق نہیں بن سکی۔ والدین جب خستہ حال اسکول دیکھتے ہیں، جہاں سہولیات نہیں تو وہ مجبور ہو جاتے ہیں کہ بچے کو پڑھانے کے بجائے مزدوری پر لگا دیں۔ یہ صرف ایک گھر کی بربادی نہیں، یہ پورے معاشرے کا مستقبل تباہ کر رہا ہے۔ اصل مسئلہ بچے نہیں، ہمارا رویہ ہے۔ ہم روز ان بچوں کو بھیک مانگتے دیکھتے ہیں، مگر ہمیں فرق نہیں پڑتا۔ جب معاشرہ کسی معصوم کی بے بسی پر خاموش ہو جائے، تو سمجھ لیں کہ وہ اخلاقی طور پر مر چکا ہے۔ قانون سب موجود ہیں، چاہے وہ چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ ہو یا چائلڈ لیبر قوانین۔ لیکن عمل درآمد؟ وہ کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ گداگری مافیا کو پکڑنا ناممکن نہیں، مگراس کے لیے سیاسی اور انتظامی نیت چاہیے، جو ابھی کمزور ہے۔
آخر میں سوال یہی ہے کہ اگر ہمارے اپنے بچے اس حالت میں ہوتے تو کیا ہم خاموش بیٹھ جاتے؟ اگر ان کا بچپن سڑکوں پر گزر رہا ہوتا، اگر وہ تشدد سہ رہے ہوتے، اگر وہ بھیک مانگنے پر مجبور ہوتے تو کیا ہمارا ضمیر یوں ہی سویا رہتا؟ یہ بچے ہمارے نہیں تو کیا انسان نہیں؟ یہ مسئلہ کسی ایک گھر، محلے یا شہر کا نہیں—یہ پوری قوم کی تہذیبی شکست کی کہانی ہے۔ چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی 1121 ہیلپ لائن امید کا دروازہ ہے، مگر اصل تبدیلی تب آئے گی جب ریاست اور معاشرہ دونوں اپنی ذمہ داری قبول کریں گے۔ اگر آج ایک بچے کی آواز نہ سنی گئی تو کل پورا معاشرہ چیخے گا—اور کوئی سننے والا نہیں ہوگا۔



Leave A Comment