اخلاق کا دیوالیہ — ہم سب مجرم ہیں
تحریر✍️نسیم اختر 🌷
یہ عجب زمانہ ہے — مسجدوں میں نمازیوں کا ہجوم بڑھ رہا ہے مگر دلوں میں خوفِ خدا کم ہوتا جا رہا ہے۔ تسبیح ہاتھوں میں ہے، مگر زبانوں سے زہر ٹپک رہا ہے۔ سڑکوں پر ’’قانون‘‘ کے بورڈ ہیں مگر انصاف کی چیخیں دیواروں سے ٹکرا کر لوٹ آتی ہیں۔ ہر شخص کو دوسروں کی بدعنوانی کا گلہ ہے، مگر کوئی اپنی دیانت داری کا حساب دینے پر تیار نہیں۔ یہ وہ معاشرہ ہے جہاں جرم کرنے والا اور جرم برداشت کرنے والا — دونوں ایک ہی نظام کے محافظ بن چکے ہیں۔
پاکستان میں اخلاقی زوال اب محض ’’رائے‘‘ نہیں، بلکہ روزمرہ کا منظر بن گیا ہے۔ سرکاری دفاتر میں فائلیں رشوت کے بغیر نہیں چلتی، عدالتوں میں انصاف کی تاریخیں نسل در نسل بدلتی ہیں، سیاست میں جھوٹ اتنی مہارت سے بولا جاتا ہے کہ سچ کمزور محسوس ہونے لگتا ہے۔ وزیر وعدہ کرتا ہے، عوام یقین کر لیتے ہیں، اور چند دن بعد وہ وعدہ ’’بیان کا غلط مطلب‘‘ قرار دے دیا جاتا ہے۔ عوام شور کرتے ہیں، پھر چپ ہو جاتے ہیں — جیسے انہیں اپنی بے بسی سے محبت ہو گئی ہو۔
مگر یہ بیماری صرف یہاں نہیں، دنیا بھر میں اخلاقی دیوالیہ پن کا سیلاب پھیل رہا ہے۔ امریکہ میں کانگریس کے اراکین پر رشوت اور مفادات کے ٹکراؤ کے الزامات، یورپ میں سیاسی فراڈ، اور مشرقِ وسطیٰ میں مذہب کے نام پر اقتدار کی ہوس — سب ایک ہی علامت کے مختلف چہرے ہیں۔ اخلاقیات کے جنازے ہر قوم نے اپنے انداز میں نکالے ہیں، فرق صرف بینڈ باجے کا ہے۔
گزشتہ سال برطانیہ میں وزیرِ اعظم کے دفتر میں لاک ڈاؤن کے دوران پارٹی کرنے کا اسکینڈل سامنے آیا تو قوم نے شور مچایا — لیکن چند دن بعد سب بھول گئے۔ امریکہ میں صدر کے خلاف اخلاقی مقدمات چلتے ہیں اور اگلے ہی روز وہ جلسوں میں "مسیحا" بن کر نمودار ہوتے ہیں۔ دنیا بھر میں بدعنوانی کے اعدادوشمار بڑھ رہے ہیں، مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ لوگ اب ان پر غصہ نہیں کرتے۔ گویا ضمیر مر نہیں رہا، بس نیند کی گولی کھا کر سو گیا ہے۔
اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق، بدعنوانی سے ہر سال دنیا کو تقریباً 2.6 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہوتا ہے۔ مگر نقصان صرف مالی نہیں — یہ اعتماد، عزت اور معاشرتی وقار کا نقصان ہے۔ معاشرے اعتماد کے رشتوں پر قائم رہتے ہیں، اور جب اعتماد ٹوٹ جائے تو ادارے، قانون اور حکومتیں صرف ڈھانچے بن کر رہ جاتے ہیں۔
اگر ہم اپنے اردگرد دیکھیں تو بدعنوانی کسی اور کی نہیں، ہماری اپنی روزمرہ عادات کی پیداوار ہے۔ ہم بچوں کو سکھاتے ہیں کہ ’’بیٹا جھوٹ نہ بولنا‘‘ مگر اسکول کی فیس وقت پر نہ دینے کا بہانہ جھوٹ سے کرتے ہیں۔ ہم دکاندار سے کہتے ہیں ’’نفع کم رکھو‘‘ مگر خود ٹیکس چوری کو ’’چالاکی‘‘ سمجھتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں حکمران ظالم ہیں، مگر جب موقع ملے تو کسی کا حق دبانے سے نہیں چوکتے۔ یہی وہ اجتماعی منافقت ہے جس نے اخلاق کا جنازہ کندھوں پر چڑھایا ہے — اور ہر کندھا ہمارا اپنا ہے۔
ہمارے ہاں مذہب ہر زبان پر ہے مگر عمل سے غائب۔ سوشل میڈیا پر ’’اسلامی اقتباسات‘‘ شئیر کرنے والے لوگ ٹریفک سگنل توڑنے کو معمولی بات سمجھتے ہیں۔ حج سے واپسی پر رشوت کا نظام دوبارہ چلنے لگتا ہے، افطار کی محفل میں جھوٹ بولنا ’’سیاست‘‘ کہلاتا ہے۔ گویا ہم نے دین کو ایک تہوار بنا دیا ہے — جو سال میں چند دنوں کے لیے ہوتا ہے، باقی دنوں میں کردار کا دیوالیہ پن چھایا رہتا ہے۔
اخلاقی دیوالیہ پن کی جڑ دراصل خودغرضی ہے۔ جب ہر شخص اپنے فائدے کو قومی مفاد سے بڑا سمجھنے لگے، تو قانون کاغذ پر، اور اصول نصیحت کی کتاب میں قید ہو جاتے ہیں۔ جاپان میں اگر کوئی افسر غلطی سے عوام کو نقصان پہنچائے تو وہ استعفیٰ دے کر معافی مانگتا ہے۔ ہمارے ہاں اگر بجلی، پانی یا قانون فیل ہو جائے تو حکمران ٹی وی پر آ کر کہتا ہے: "سب ٹھیک ہو جائے گا" — اور خود بیرونِ ملک علاج کروانے چلا جاتا ہے۔
مگر اس کے باوجود مایوسی حل نہیں۔ اس زوال کا علاج بدعنوانی کے نعروں میں نہیں، کردار کی اصلاح میں ہے۔ جب ہم اپنے گھر، اسکول، دفتر اور بازار میں سچ بولنے، وعدہ نبھانے اور انصاف کرنے کا عزم کریں گے تو تبدیلی خود بخود آئے گی۔ معاشرے قوموں کی طرح اوپر سے نہیں، اندر سے بنتے ہیں۔ اگر ایک استاد ایماندار ہو، ایک افسر اصولوں کا پابند ہو، ایک شہری اپنے حصے کا سچ بولے — تو یہ چھوٹے چراغ مل کر اندھیرے کو توڑ سکتے ہیں۔
قرآن کہتا ہے: “بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلیں۔”
یہی وہ آیت ہے جو ہمیں بتاتی ہے کہ مسئلہ حکومت یا نظام کا نہیں، نیتوں اور کردار کا ہے۔ ہم جب تک اپنے اندر کے مجرم کو نہیں پہچانیں گے، بیرونی مجرموں کے خلاف کوئی جنگ نہیں جیت سکتے۔
عالمی سطح پر بھی امید کی چند کرنیں ہیں۔ ڈنمارک، نیوزی لینڈ اور فن لینڈ جیسے ممالک نے تعلیمی نصاب میں اخلاقی تربیت کو لازمی قرار دیا ہے۔ وہاں "کردار سازی" ایک مضمون نہیں، طرزِ زندگی ہے۔ یہی چیز ہمیں بھی درکار ہے۔ اگر ہم نصاب میں اخلاق کو مضمون نہیں، ماحول بنا دیں تو شاید ایک نئی نسل اس دیوالیہ پن سے نجات پا سکے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اخلاقیات کوئی لکچر نہیں، بلکہ روزمرہ کے فیصلوں کی عادت ہے۔ اگر ہم اپنے ضمیر سے سچ بولنے لگیں، چھوٹے مفاد پر بڑے مقصد کو ترجیح دینے لگیں، تو یہ معاشرہ دوبارہ اٹھ کھڑا ہو سکتا ہے۔
آخر میں ہمیں اپنے آپ سے ایک سوال ضرور پوچھنا چاہیے:
ہم بدعنوانی کے خلاف کیوں بولتے ہیں مگر اپنے حصے کی بددیانتی کو نظرانداز کیوں کرتے ہیں؟
کیا ہم واقعی مظلوم ہیں — یا صرف مجرموں کے درمیان خاموش تماشائی؟
شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم دوسروں پر انگلی اٹھانے سے پہلے اپنی آستین میں چھپے ہاتھ کو دیکھیں۔ کیونکہ یہ قوم صرف تب بچے گی، جب ہم یہ مان لیں کہ "ہم سب مجرم ہیں" — مگر توبہ کے دروازے ابھی بند نہیں ہوئے



Leave A Comment