آتما رام جی کی سمادھی / جین مندر، گوجرانوالہ
ایشیا اردو
تحریر: محمد عثمان قریشی
گوجرانوالہ شہر کا شمار نا صرف موجودہ پاکستان میں اہمیت کا حامل ہے بلکہ تاریخی اعتبار سے بھی اس شہر کی اہمیت کسی طور نظر انداز نہیں کی جاسکتی۔ گوجرانوالہ سے متصل ایمن آباد میں واقع لودھی دور (1651) میں تعمیر کی گئی مسجد ہو ، ہندو مذاہب کے تاریخی مندر یا جین مذہب کے مذہبی مقامات تمام اس شہر کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔ حالیہ تاریخ میں شیر پنجاب کے نام سے جاننے والے پنجاب کے سکھ حکمران کی جائے پیدائش بھی یہی شہر ہے۔ اس کے علاوہ یہ شہر پہلوانوں کے شہر طور پر بھی پہچانا جاتا ہے۔ لیکن آج ہم اس شہر کےایک اور پوشیدہتاریخی جین مذہب سے تعلق رکھنے والی عمارت کا تعارف کروانے جارہے ہیں، آتما رام جی کی سمادھی۔
آتمارام جی کی سمادھی گوجرانوالہ شہر کے وسط میں گرینڈ ٹرنک (جی ٹی)روڈ اور پاراؤ روڈ کے سنگم پر واقع ہے۔ 19ویں صدی کے اختتام میں اور 20ویں صدی کے اوائل میں تعمیر کی گئی عمارت ہے، یہ آچاریہ وجےانند سوری (1837-96،جنھیں وجےانند سوری بھی کہا جاتا ہے ) کی یادگار بکے طور پر جانا جاتاہے، جو کہ ایک مشہور جین راہب تھے ، ان کی استھیاں (راکھ )کو یہاں دفن کیا گیا تھا۔
آچاریہ وجےانند سوری، جین تاریخ کے مطابق، گوجرانوالہ کے آتمارام جی کے نام سے بھی جانے جاتے تھے۔ وہ جدید دور میں پہلے جین راہب تھےجنھیں پالیتانہ کی ایک جماعت نے آچاریہ کا خطاب دیا تھا ۔ یہ ایک قابل ذکر واقعہ تھا کیونکہ چار صدیوں سے ایک بھی سنیاسی کو آچاریہ کے خطاب سے نوازا نہیں گیا ہے۔ وہ ہم عصر جین تاریخ کے پہلے آچاریہ تھے۔ یوجے انند سوری6 اپریل 1837 کو پیدا ہوئے تھے اور انکی وفات 20 مئی 1896 کوبتائی جاتی ہے۔ جین مذہب کے تاریخی حوالے بتاتے ہیں کہ اس کا انتقال 1896 عیسوی میں گوجرانوالہ (پنجاب، پاکستان) میں ہوا اور اس کی باقیات کو شاگردوں نے محفوظ کر رکھا تھا اور ان کی سمادھی بھی بنائی۔
وجےانندسوری نے کئی صدیوں میں پہلے راہب کے طور پر شہرت حاصل کی جس نے آچاریہ کا خطاب حاصل کیا، یہ جین عقیدت مندوں میں ایک اعلی اعزاز سمجھا جاتا ہے۔ وجےانندسوری ،ایک ذہین شخصیت تھے، اس نے پورے گجرات اور پنجاب میں پیدل سفر کیا، جین بھنڈراس (لائبریریاں) کھولنے کے لیے کام کیا، جو عوام کے لیے آسانی سے قابل رسائی نہیں تھے۔ ان کی کوششوں سے، متعدد قدیم جین مسودات کو منظر عام پر لایا گیا اور انکو عوام میں تقسیم ککرنے کا انتظام بھی کیا گیا۔ آپ کی ان خدمات سےآپ نے مغربی اسکالرز کی توجہ حاصل کی، جنہوں نے اآتما رام جی کو شکاگو میں 1893 میں عالمی مذاہب کی پارلیمنٹ میں شرکت کی دعوت دی۔ اگرچہآتما رام جی نےاس میں شرکت کرنے سے انکار کر دیا، لیکن ویرچند گاندھی کو اپنا نائب بنا کر بھیجا، جس کی کارکردگی نے انہیں چاندی کا تمغہ اور امریکی اخبارات میں کوردیا۔
عمارت میں گراؤنڈ فلور پر 25 کمرے اور دوسری منزل پر چار کمرے ہیں، جو تباہ شدہ چھتوں کے ساتھ مکمل ہیں۔ سمادھی کی آٹھ کونی عمارت ان کمروں کے بیچ میں ہے۔ اس کا ایک بڑا مرکزی گنبد اور داخلی راستوں پر چار چھوٹے گنبد ہیں۔ چھوٹے محرابوں والا ایک کمرہ ہے جو کبھی بتوں کی پوجا کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ اس عمارت کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ مرکزی عمارت میں آتما رام جی کی استھیاں دفن ہیں۔ ایک عمارت مندر کے طور پر استعمال ہوتی تھی اور دوسری رہائشی علاقہ۔ تاریخی کتابوں میں بتایا گیا ہے کہ عمارت کو سنگ مرمر اور سرخ ٹائلوں کا استعمال کرتے ہوئے خوبصورتی سے تعمیر کیا گیا تھا۔
عمارت کی دیوار پر کندہ تختیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ عمارت کے کچھ حصے مختلف اوقات میں دوبارہ تعمیر کئے گئے یا انکی مرمت کی گئی۔ ایک تختی کے مطابق گوجرانوالہ کے رہائشی لال مایا داس اور نانک چن ذات بھابھرا نے 1904 میں شری آتمار جی کی سمادھی کے طور پر عمارت تعمیر کی تھی ۔ جو کہ اب بھی اپنی انوکھے طرز کی تعمیر کی گواہی دے رہی ہے۔ اب بھی دوسرے ممالک سے جین مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد اس سمادھی کو دیکھنے آتے ہیں اور اپنی مذہبی رسومات بھی ادا کرتے ہیں۔



Leave A Comment