بھارت نے 1947 سے اب تک کئی بار پاکستان کی سرحد پر اپنی فوج تعینات کی ہے، جن کی وجہ دونوں ممالک کے درمیان تنازعات اور بڑھتی ہوئی کشیدگی رہی ہے۔ ذیل میں ان اہم مواقع کا خلاصہ پیش کیا جا رہا ہے
پہلی پاک-بھارت جنگ (1947–1948)
سبب: پاکستان کی حمایت یافتہ قبائلیوں کا جموں و کشمیر پر حملہ۔
بھارت نے مہاراجہ کے ساتھ الحاق کے بعد کشمیر کا دفاع کرنے کے لیے اپنی فوج بھیجی۔
دوسری پاک-بھارت جنگ (1965)
سبب: پاکستان کا آپریشن جبرالٹر، جو جموں و کشمیر میں شروع کیا گیا۔
اس کے نتیجے میں مغربی سرحد پر مکمل جنگ اور بڑے پیمانے پر فوجی تعیناتی ہوئی۔
تیسری پاک-بھارت جنگ (1971)
سبب: بنگلہ دیش کی آزادی کی تحریک اور مہاجرین کا بحران۔
بھارت نے مشرقی (مشرقی پاکستان) اور مغربی محاذ پر اپنی افواج بڑے پیمانے پر تعینات کیں۔
 آپریشن براس ٹیکس (1986–1987)
سبب: راجستھان کے قریب بھارت کی وسیع فوجی مشق۔
پاکستان نے بھی جوابی طور پر فوج سرحد پر متحرک کی، جس سے دونوں ممالک جنگ کے قریب آ گئے۔
کارگل جنگ (1999)
سبب: پاکستانی افواج اور جنگجوؤں کی کرگل سیکٹر میں دراندازی۔
یہ جنگ محدود نوعیت کی تھی لیکن لائن آف کنٹرول پر فوجی موجودگی بہت زیادہ تھی۔
2001–2002 کا بھارت-پاکستان کشیدگی (آپریشن پراکرم)
سبب: بھارتی پارلیمنٹ پر دسمبر 2001 میں حملہ۔
بھارت نے پانچ لاکھ سے زائد فوجی پاکستان کی سرحد پر تعینات کر دیے۔
 اُڑی حملہ کے بعد صورتحال (2016)
سبب: اُڑی میں بھارتی فوجی اڈے پر دہشتگرد حملہ۔
بھارت نے لائن آف کنٹرول کے پار سرجیکل اسٹرائیک کیں؛ اگرچہ مکمل جنگی تعیناتی نہیں ہوئی، لیکن سرحدوں پر الرٹ کی کیفیت رہی۔
پلوامہ حملہ کے بعد (2019) – بالا کوٹ فضائی حملے
سبب: پلوامہ میں خودکش بم دھماکہ۔
بھارتی فضائیہ نے بالا کوٹ میں فضائی حملے کیے؛ دونوں ممالک نے اپنی افواج کو الرٹ کر دیا۔
بھارت نے 1947 سے اب تک کم از کم 6 سے 8 بڑے مواقع پر پاکستان کی سرحد پر اپنی فوج تعینات کی، جن میں مکمل جنگیں اور شدید کشیدگی کے حالات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کئی بار معمولی نوعیت کی جھڑپیں اور فوجی نقل و حرکت بھی ہوتی رہی ہے، جن کی مکمل تفصیلات اکثر عوامی سطح پر دستیاب نہیں ہوتیطورl
ابتدائی سبب: پاہلگام میں حملہ
14 اپریل 2025 کو، نامعلوم مسلح افراد نے مقبوضہ کشمیر کے خوبصورت سیاحتی مقام پاہلگام میں بھارتی اور غیر ملکی سیاحوں کے ایک گروپ پر اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں 13 بے گناہ شہری جاں بحق اور 30 سے زائد شدید زخمی ہو گئے۔ بھارتی انٹیلیجنس اداروں نے فوری طور پر اس حملے کا الزام پاکستان کے زیرِ انتظام علاقے سے سرگرم شدت پسند گروہوں پر عائد کیا، جس سے بھارت میں عوامی غصہ بھڑک اٹھا اور حکومتِ دہلی پر سخت ردعمل دینے کا دباؤ بڑھ گیا۔
فوجی نقل و حرکت: ایک مانوس لیکن تشویشناک منظرنامہ
حملے کے محض 48 گھنٹوں کے اندر، بھارت نے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) اور سیالکوٹ سیکٹر کے ساتھ اپنی فوجی نقل و حرکت شروع کر دی۔ بھارتی فضائیہ نے جموں کے علاقے میں نچلی پروازوں کی مشقیں کیں، جب کہ بکتر بند ڈویژنز کو پنجاب اور جموں کے اگلے مورچوں کی طرف روانہ کیا گیا۔ پاکستان نے بھی جوابی اقدام کے طور پر اپنی فوجوں کو ہائی الرٹ پر رکھتے ہوئے سرحدی علاقوں میں تعیناتی شروع کر دی۔
اس حالیہ کشیدگی کو سابقہ تنازعات سے مختلف بنانے والی چیز اس کی رفتار اور شدت ہے۔ ماضی میں اکثر ایسے تناؤ ہفتوں تک چلتے رہتے تھے، مگر اس بار چند ہی دنوں میں حالات جنگ کے دہانے تک پہنچ گئے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب دونوں ممالک کے ردِعمل کا وقت نہایت مختصر ہو چکا ہے، جس سے حادثاتی تصادم کا خطرہ کہیں زیادہ بڑھ گیا ہے۔
سفارتی زلزلہ: بھارت کا سندھ طاس معاہدے سے دستبرداری کا اعلان
ایک غیر متوقع اور تاریخی فیصلے کے تحت بھارت نے 21 اپریل 2025 کو اعلان کیا کہ وہ 1960 کے سندھ طاس معاہدے (Indus Waters Treaty) سے باضابطہ طور پر دستبردار ہو رہا ہے — وہ معاہدہ جسے جنوبی ایشیا میں استحکام کی علامت سمجھا جاتا تھا، یہاں تک کہ جنگ کے دنوں میں بھی۔
بھارتی وزارت خارجہ نے بیان میں کہا کہ "سرحد پار دہشتگردی کی پشت پناہی کرنے والی ریاست کے ساتھ پانی کی تقسیم پر نظرِ ثانی ناگزیر ہے"، اور اعلان کیا کہ وہ پاکستان کو دیے گئے دریاؤں — خاص طور پر سندھ، جہلم، اور چناب — کے پانی کے بہاؤ کو روکنے کا عمل شروع کر رہا ہے۔
بھارت نے ہنگامی بنیادوں پر کئی دیرینہ آبی منصوبوں — جیسے کشن گنگا اور رتلے ڈیم — کی تعمیرات کی اجازت بھی دے دی ہے، جو پہلے تنازعات یا عالمی مداخلت کے باعث رکی ہوئی تھیں۔
یہ یکطرفہ فیصلہ بھارت اور پاکستان کے تعلقات میں ایک زبردست تبدیلی کی نمائندگی کرتا ہے، جس سے نہ صرف علاقائی کشیدگی میں اضافہ ہوگا بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی شدید ردعمل متوقع ہے۔
تزویراتی اور علاقائی اثرات
پاکستان نے بھارت کے اس اقدام کو "آبی جنگ کا اعلان" قرار دیتے ہوئے اقوامِ متحدہ، عالمی بینک (جو اس معاہدے کا ضامن ہے)، اور دیگر بین الاقوامی فورمز سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اگر بھارت نے واقعی مغربی دریاؤں کا پانی روک دیا، تو پاکستان کے پنجاب اور سندھ جیسے علاقوں میں قحط یا سیلاب جیسی انسانی آفات جنم لے سکتی ہیں۔
اسی دوران، لائن آف کنٹرول پر گولہ باری اور ڈرون سرگرمیوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ کچھ سرحدی دیہات سے شہریوں کی نقل مکانی کا آغاز ہو چکا ہے اور اہم فوجی تنصیبات کے گرد فضائی دفاعی نظام بھی فعال کر دیے گئے ہیں۔
خطرناک موڑ پر کھڑا خطہ
ایک اور دہشتگرد حملہ، جو ماضی کی طرح ایک افسوسناک سانحہ تھا، اب ایک سنگین علاقائی بحران میں بدل چکا ہے جس کے فوجی، ماحولیاتی، اور جیوپولیٹیکل اثرات گہرے ہو سکتے ہیں۔ بھارت جہاں اپنی طاقت کا اظہار اور نئی "ریڈ لائنز" مقرر کرنا چاہتا ہے، وہیں پاکستان ان اقدامات کو اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کے خلاف سنگین خطرہ سمجھ رہا ہے

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار