خواجہ عابد حسین
‎امریکہ نے ایک بار پھر مشرقِ وسطیٰ میں "امن" کے نام پر جنگ کو ہوا دی ہے۔ صدر ٹرمپ نے ایران پر اسرائیلی حملے کے فوراً بعد دنیا کو باور کرانے کی کوشش کی کہ امریکہ اس کارروائی میں ملوث نہیں اور واشنگٹن کا مقصد صرف امن قائم کرنا ہے۔ لیکن Middle East Eye کی رپورٹ نے امریکی دعوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے۔
‎ایم ای ای کے مطابق، امریکہ نے منگل کے روز اسرائیل کو خفیہ طور پر 300 ہیلفائر میزائل فراہم کیے، جو جدید اور مہلک ہتھیار ہیں۔ یہ ترسیل اس وقت کی گئی جب بظاہر امریکہ ایران سے جوہری معاہدے کے لیے بات چیت کر رہا تھا۔ ان میزائلوں کی نوعیت اور مقدار واضح طور پر اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ واشنگٹن کو اسرائیل کے ایران پر حملے کی منصوبہ بندی کا علم تھا — بلکہ ممکنہ طور پر اسے منظوری بھی دی گئی تھی۔
‎اسرائیل نے اپنے اس حملے میں سو سے زائد طیارے استعمال کیے اور اس کی کارروائیاں انتہائی ٹارگٹڈ تھیں، جن میں ایران کے اعلیٰ فوجی افسران، جوہری سائنس دان، اور کمانڈ مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ جن شخصیات کو ہلاک کیا گیا ان میں جنرل حسین سلامی، جنرل محمد باقری اور رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کے قریبی ساتھی علی شمخانی شامل ہیں۔
‎یہ کوئی معمولی حملہ نہیں تھا — بلکہ ایک مربوط، پیشگی منصوبہ بند کارروائی تھی، جس میں امریکہ نے نہ صرف خاموش معاونت فراہم کی بلکہ حملے کے دوران ایران کی جانب سے داغے گئے میزائل بھی مار گرائے۔
‎ایک سینئر امریکی دفاعی اہلکار نے اعتراف کیا کہ "ہیلفائر میزائل اسرائیل کے لیے مفید تھے"۔ اگرچہ یہ میزائل جوہری تنصیبات کو تباہ کرنے کے لیے کارآمد نہیں، لیکن ان کا استعمال حساس اور ہدف شدہ حملوں میں کیا جاتا ہے — اور یہی اسرائیل نے کیا۔
‎مجموعی طور پر امریکی پالیسی کا یہ تضاد — ایک طرف مذاکرات، دوسری طرف ہتھیاروں کی ترسیل — "دوغلی سفارتکاری" کی زندہ مثال ہے۔ جس وقت صدر ٹرمپ ایران کو 60 دن کی مہلت دے رہے تھے کہ وہ جوہری معاہدے پر ازسرنو بات کرے، اسی وقت واشنگٹن اسرائیل کو خفیہ طور پر اس حملے کے لیے لیس کر رہا تھا۔
‎اس حملے کے وقت کا انتخاب بھی اہم ہے: 12 اپریل کو مذاکرات کا آغاز، اور 61 دن بعد اسرائیلی حملہ — یہ سب کچھ ایک گہرے منصوبے اور ہم آہنگی کی جانب اشارہ کرتا ہے، جو نہ صرف ایران بلکہ خطے میں دیگر قوتوں کے لیے بھی واضح پیغام ہے۔
‎اس تمام صورتحال میں امریکہ کے "غیر جانبدار" ہونے کا دعویٰ محض ایک دکھاوا تھا، جسے اب خود امریکی اہلکار اور میڈیا بے نقاب کر رہے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے: کیا دنیا اب بھی واشنگٹن کو ایک غیرجانبدار ثالث تسلیم کرے گی؟ یا اب وقت آ گیا ہے کہ امریکی سفارت کاری کو اس کے مفادات کی روشنی میں پرکھا جائے، نہ کہ اس کے نعروں کے سہارے؟
‎مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر ایسے دہانے پر کھڑا ہے جہاں طاقت کی زبان، معاہدوں اور مذاکرات پر غالب آ چکی ہے۔ اور اس صورتحال میں امریکہ کا کردار نہایت تشویش ناک ہے — ایک طرف ثالثی کا لبادہ، اور دوسری طرف ہتھیاروں کی بارش۔ یہ صرف جنگ کا آغاز نہیں، بلکہ امن کے ہر امکان کا قتل ہے

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار