فیصل آباد (16 جنوری): محکمہ زراعت نے کاشتکاروں کو کماد کی بہتر پیداوار کے لیے اسے کھلے سیاڑوں اور گہری کھیلیوں میں کاشت کرنے کی سفارش کی ہے۔ محکمہ کے مطابق کماد کی کاشت سے قبل زمین کو اچھی طرح ہموار کر کے گہرا ہل چلایا جائے، بعد ازاں سہاگہ لگا کر رجر کے ذریعے 10 سے 12 انچ گہری کھیلیاں چار فٹ کے فاصلے پر بنائی جائیں۔

نظامت زرعی اطلاعات آری فیصل آباد کے ڈائریکٹر ڈاکٹر آصف علی نے اے پی پی کو بتایا کہ کاشتکار کھیلیوں میں پہلے فاسفورس اور پوٹاش کی کھاد ڈالیں، اس کے بعد سیاڑوں میں کماد کے سموں کی دو لائنیں چھ انچ کے فاصلے پر اس طرح لگائیں کہ سموں کے سرے آپس میں ملے ہوں۔ بعد ازاں بیج کو مٹی کی ہلکی تہہ سے ڈھانپ دیا جائے اور اس عمل میں احتیاط برتی جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بیج ڈالنے کے بعد سہاگہ نہ پھیرا جائے بلکہ ہاتھ یا پاؤں سے مٹی ڈال کر ہلکا پانی لگا دیا جائے۔ مناسب وقفے سے آبپاشی جاری رکھی جائے اور کھیلیاں خشک ہونے پر دوبارہ پانی لگایا جائے تاکہ کماد کے اگاؤ تک فصل کو مطلوبہ نمی میسر رہے۔

ڈاکٹر آصف علی کے مطابق اچھی پیداوار کے لیے سیاڑوں کا درمیانی فاصلہ چار فٹ ہونا ضروری ہے تاکہ پودوں کو وافر روشنی، ہوا اور غذائی اجزا میسر آ سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہل اور ترپھالی کے ذریعے گوڈی اور نلائی آسانی سے کی جا سکتی ہے، جس سے وقت اور اخراجات میں کمی آتی ہے جبکہ فصل کو گرنے سے بھی بچایا جا سکتا ہے۔

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار