ملتان! اگیتی کپاس کی کاشت کے لیے مناسب درجہ حرارت کا خیال رکھا جائے یہ بات ڈائریکٹر سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان ڈاکٹر محمد نوید افضل نے کاشتکاروں کے نام اپنے اہم پیغام میں کہا ہے۔

انہوں نے کپاس کے کاشتکاروں کو مشورہ دیا ہے کہ اگیتی کپاس کی کاشت میں جلد بازی سے گریز کریں۔ کاشت اس وقت تک نہ کی جائے جب تک درجہ حرارت کپاس کی افزائش کے لیے موزوں نہ ہو۔ غیر موزوں وقت پر کاشت سے پیداوار میں کمی اور کئی زرعی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں، اس لیے بہتر نتائج کے لیے مناسب درجہ حرارت اور سازگار حالات کا انتظار کرنا انتہائی ضروری ہے۔

ڈاکٹر نوید افضل کا کہنا تھا کہ اگیتی کپاس کی کاشت کے لیے کاشتکار ٹرپل جین اقسام کاشت کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ درجہ حرارت مسلسل چار دن  تک 18 ڈگری سینٹی گریڈ سے کم نہ ہو۔ موزوں درجہ حرارت بیج کے بہتر اگاؤ اور پودے کی ابتدائی نشوونما کے لیے نہایت ضروری ہے۔ اگر کپاس کو غیر موزوں درجہ حرارت پر کاشت کیا جائے تو بیج کے اگاؤ میں دشواری، بیج کے گلنے سڑنے اور بیماریوں کے امکانات بڑھ جاتے ہیں، جو بالآخر پیداوار کو متاثر کرتے ہیں اور کاشتکار کو معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

 ڈاکٹر نوید افضل کا مزید کہنا تھا کہ اگیتی کپاس کی کاشت کا سفارش کردہ وقت 15 فروری سے 31 مارچ کے درمیان ہے۔ گزشتہ برس 2024 سیزن میں مناسب درجہ حرارت نہ ہونے کے باعث اگیتی کاشت میں تاخیر دیکھنے میں آئی اور ایسے کاشتکار جنہوں نے جلد بازی میں اگیتی کپاس کاشت کی تو انہیں بیج کے اگاؤ میں مسائل کا سامنا کرنا پڑا اور ان کی پیداوار میں کمی واقع ہوئی۔

مناسب درجہ حرارت پر بیج کے اگاؤ اور پودے کی صحت مند نشوونما ممکن ہے، جس سے نہ صرف پیداوار میں اضافہ ہوگا بلکہ کاشتکار کو بھی منافع حاصل ہوگا۔

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار