ریاستِ بہاولپور برصغیر کی اُن معدود چند مسلم ریاستوں میں شمار ہوتی تھی جو صرف سیاسی حیثیت تک محدود نہیں رہیں بلکہ ایک مکمل ریاستی ڈھانچہ بھی قائم کیا۔ اس ریاست کے پاس اپنا انتظامی نظام، پولیس، عدالتیں، تعلیمی ادارے، صحت کے مراکز اور شہری بہبود کے محکمے موجود تھے۔ داخلی سلامتی کے امور الگ محکمہ دیکھتا تھا اور عدلیہ تین سطحوں پر قائم تھی جس میں اپیلوں کا باقاعدہ سلسلہ موجود تھا۔ صحت کے شعبے میں 1906 میں قائم کیا جانے والا بہاول وکٹوریہ ہسپتال آج بھی جنوبی پنجاب کے لیے ایک تدریسی و طبی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے، جبکہ گورنمنٹ طبیہ کالج بہاولپور کا قیام ایک تاریخی اور منفرد مثال ہے جو پاکستان کا واحد سرکاری طبیہ کالج ہے جو قیامِ پاکستان سے قبل قائم ہوا اور آج تک بدستور فعال ہے۔ ریاست کے پاکستان سے الحاق کے وقت معاہدۂ انضمام میں یہ شق بھی شامل تھی کہ وفاق ریاستی اداروں کے تسلسل کو برقرار رکھے گا اور انہیں ضم یا تحلیل نہیں کرے گا۔ چنانچہ طبیہ کالج سمیت کئی ادارے آج تک اپنی اصل شناخت کے ساتھ قائم ہیں۔ ان تمام پہلوؤں سے واضح ہوتا ہے کہ بہاولپور محض ایک نوابی خطہ نہیں بلکہ ایک ایسی مکمل ریاست تھی جس کا انتظامی، عدالتی اور تعلیمی نظام اپنی جگہ مکمل فعال تھا۔

ایشیا اردو اداریہ ملتان ایڈیشن
برصغیر میں جدید پرنٹنگ پریس کی آمد سولہویں صدی میں پرتگالی مشنریوں کے ذریعے ہوئی، جنہوں نے گوا اور کوچین میں ابتدائی پریس قائم کیے۔ اٹھارویں اور انیسویں صدی میں برطانوی اثر و رسوخ بڑھنے کے ساتھ یہ نظام پھیل گیا اور مختلف شہروں میں سرکاری، تجارتی اور مشنری پریس قائم ہوتے چلے گئے۔ کلکتہ، بمبئی، دہلی، لکھنؤ اور دیگر مراکز میں مذہبی کتب، تاریخی مواد، نصابی کتب، قوانین، سرکاری دستاویزات اور اخبارات چھپنے لگے اور یوں پرنٹنگ پریس تعلیم، مذہبی اصلاح اور سیاسی شعور کے فروغ کا ذریعہ بن گیا۔

News Image

تعلیم اور پرنٹنگ کے درمیان تعلق ہمیشہ بنیادی رہا ہے، کیونکہ تعلیم کا فروغ کتاب، نصاب اور دستاویزی مواد کے بغیر ممکن نہیں۔ اشاعت کے مضبوط نظام کے بغیر کوئی ریاست یا معاشرہ نہ تو علمی اثاثے محفوظ رکھ سکتا ہے اور نہ ہی انہیں آگے منتقل کر سکتا ہے۔ ریاستیں اپنے نصاب، سرکاری احکامات، مالیاتی قوانین، قانونی تقاضوں اور مذہبی و فکری بیانیے کو مستحکم کرنے کے لیے اشاعتی ذرائع اختیار کرتی ہیں۔ چنانچہ جس دور میں تعلیمی سرگرمیاں بڑھتی ہیں، اسی دور میں پرنٹنگ پریس کا کردار بھی لازماً بڑھتا ہے اور یہی باہمی انحصار معاشرے میں فکری تشکیل اور ادارہ سازی کو تقویت دیتا ہے۔
بہاولپور کے نوابین روز اول سے ہی جدت کے فوائد سے آشنا تھے، اسی لیے یہاں پرنٹنگ پریس کی ضرورت محسوس ہوئی اور 1867 میں ریاست نے اپنا پرنٹنگ پریس قائم کیا۔ یہ پریس ریاستی قوانین، احکامات، دربار کے اعلانات، سرکاری رپورٹس، تعلیمی مواد اور مذہبی و ادبی لٹریچر تک کی اشاعت کرتا رہا۔ اس کے ذریعے ریاست نے نہ صرف اپنی انتظامی اور عدالتی دستاویزات کو محفوظ کیا بلکہ نصابی اور علمی مواد کی صورت میں تعلیمی شعبے کو بھی دستاویزی بنیاد فراہم کی۔ قیامِ پاکستان سے قبل ریاست کے احکام اور قانونی مواد اسی پریس سے شائع ہوتے رہے، اور یوں یہ پریس بہاولپور میں جدید فکری اور تعلیمی بیداری کے عمل کا سنگِ بنیاد ثابت ہوا۔
قیامِ پاکستان کے بعد بھی اس پریس کی اہمیت کم نہ ہوئی۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اُس دور میں پنجاب میں سرکاری دستاویزات کی اشاعت کے لیے صرف دو ہی گورنمنٹ پرنٹنگ پریس موجود تھے؛ ایک لاہور میں اور دوسرا بہاولپور میں۔ دونوں پریس نے مسلسل غیر موافق حالات کے باوجود اپنے فرائض انجام دیے اور برسہا برس تک حکومت کی توقعات پر پورا اترتے رہے۔ جب نصاب کی چھپائی ہو، گزٹ کی اشاعت ہو، اشٹام پیپر ہوں، عدالتی دستاویزات یا محکمہ مال کے ریکارڈ—ہر جگہ ان ہی اداروں نے ریاستی مشینری کے لیے آکسیجن کی حیثیت اختیار کی رکھی۔
مگر اب صورتِ حال بدل چکی ہے۔ لاہور پریس کو شہر کے وسط سے نکال کر دوسری جگہ منتقل کرنے کی تیاریاں جاری ہیں تاکہ اسے نئے سانچے میں ڈھالا جا سکے، لیکن بہاولپور کا پریس مکمل طور پر بند کرنے کی اطلاعات زبان زدِ عام ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر اشاعتی اداروں کو جدید خطوط پر استوار کرنے کا منصوبہ ہے تو پھر ایک کو نئی عمارت اور دوسرا زمین بوس کیوں؟ کیا دونوں کی ضرورت مختلف تھی؟ کیا بہاولپور کی اشاعتی خدمات غیر ضروری تھیں؟ یا پھر یہ وہی پرانی محرومیوں کا سلسلہ ہے جسے کبھی سرائیکی خطے کے نام سے پکارا گیا، کبھی جنوبی پنجاب اور کبھی اسے صرف انتظامی طور پر نظر انداز کر کے دفاتر اور فیصلوں سے دور رکھا گیا۔
پاکستان کی تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ دشمن ہمیں بندوق اور بم سے تو شکست نہ دے سکا۔ میدانِ جنگ میں ہم نے اپنے حصے کی قیمت بھی ادا کی اور کامیابی بھی حاصل کی۔ مگر بسا اوقات جنگیں توپوں سے نہیں بلکہ سوچ، منصوبے اور معیشت سے لڑی جاتی ہیں۔ اب وہی پرانا ہندو بنیے کا کردار نئے چہرے کے ساتھ سامنے آتا ہے، جہاں گولیوں کے بجائے پالیسیوں کا استعمال کیا جاتا ہے، اور یہ پالیسیاں ہمارے ہی اندر سے ایسے لوگوں کے ذریعے نافذ کروائی جاتی ہیں جو بظاہر ہمارے ہیں مگر سوچ کسی اور کی۔ جو نقصان دشمن اسلحے سے نہ پہنچا سکا، وہی نقصان اداروں، بیانیے اور بُنیادوں کو کمزور کر کے پہنچایا جا رہا ہے۔ قومیں جب اپنی دستاویزات، اپنی تاریخ، اپنے ریکارڈ اور اپنے ادارے کھو دیتی ہیں تو شکست جنگ کے میدان میں نہیں بلکہ ذہن کے میدان میں آتی ہے۔

ایشیا اردو اداریہ بہاولپورایڈیشن
اسی لیے موجودہ فیصلے کسی معمولی انتظامی نوٹیفکیشن کی حیثیت نہیں رکھتے بلکہ ایک وسیع تر فکری سوال بن چکے ہیں: کیا ہم خود اپنے ہاتھوں وہ ستون گرا رہے ہیں جن پر ریاست کھڑی ہے؟ اگر حکومت واقعی سرکاری اداروں کو جدید خطوط پر چلانا چاہتی ہے تو پھر تقسیم اور تحلیل کے بجائے نئے ماڈلز بھی موجود ہیں۔ انہی ماڈلز کو مد نظر رکھتے ہوئے پنجاب کے سرکاری اداروں کو اشاعتی طور پر دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے جس کے ذریعے بہاولپور کے اس اشاعتی ادارے کو مزید مضبوط بنیادوں پر استوار کیا جائے۔ نصف پنجاب کی اشاعتی ضروریات لاہور دیکھ لے اور نصف بہاولپور۔ یوں ادارہ بھی زندہ رہتا، ملازمین کا روزگار بھی محفوظ رہتا، اور ایک صدی پرانی شناخت بھی برقرار رہتی ہے۔
اگر حکومت واقعی اپنے اداروں کو فعال اور جدید بنانا چاہتی ہے تو اسے بند کرنے یا ضم کرنے کے بجائے ایک منظم اور مرحلہ وار اصلاحاتی منصوبہ اپنانا چاہیے۔ بہاولپور پرنٹنگ پریس کو جدید مشینوں، تربیت یافتہ عملے اور جدید نصابی و سرکاری اشاعت کے معیار کے مطابق اپ گریڈ کیا جا سکتا ہے تاکہ نہ صرف اس کا تاریخی ورثہ محفوظ رہے بلکہ ملازمین کی روزگار کی ضمانت بھی برقرار رہے۔ پنجاب کے اداروں کو اشاعتی طور پر دو حصوں میں تقسیم کر کے، بہاولپور پرنٹنگ پریس کو ماڈل اشاعتی مرکز بنایا جا سکتا ہے اور باقی پنجاب کو لاہور کے ساتھ ہم آہنگ کیا جا سکتا ہے۔ اس سے ادارے فعال رہیں گے، مقامی شناخت برقرار رہے گی، اور حکومت کے انتظامی اور تعلیمی مقاصد بھی پورے ہوں گے۔ یہ کوئی مشکل یا ناممکن اقدام نہیں بلکہ ایک منطقی، مستحکم اور مؤثر حل ہے جو تاریخ، ادارہ اور انسانی سرمایہ تینوں کا تحفظ کرتا ہے اور ملک کی ترقی کے راستے کو مضبوط بناتا ہے۔

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار